فرحان سعید ہمیشہ سے پیچیدہ کرداروں کے انتخاب کے لیے جانے جاتے ہیں، لیکن ان کا حالیہ ڈرامہ ’بس تیرا ساتھ ہو‘ ایک ایسا تجربہ ہے جس نے انہیں تکنیکی سے زیادہ جذباتی طور پر متاثر کیا ہے۔ اداکار نے حال ہی میں اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ سکرین پر سفاک اور بے حس انسان کا کردار ادا کرنا کتنا تھکا دینے والا اور نفسیاتی طور پر بوجھل ہوتا ہے۔
رومانوی کرداروں اور نرم مزاج شخصیت کے لیے معروف فرحان کے لیے یہ ڈارک شیڈز (تاریک پہلو) محض اداکاری کا چیلنج نہیں، بلکہ ایک ذہنی کشمکش ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جب آپ دن بھر ایسے کردار میں رہتے ہیں جس کی سوچ میں ہمدردی کا فقدان اور تنازعہ شامل ہو، تو کیمرے بند ہونے کے بعد بھی اس کا اثر باقی رہتا ہے۔
فرحان نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، "آپ اس قسم کی توانائی کو آسانی سے جھٹک نہیں سکتے۔ جب آپ اپنا دن ایسے ذہن کے ساتھ گزارتے ہیں جو تلخی پر پلتا ہو، تو وہ بھاری پن آپ کے ساتھ گھر تک جاتا ہے۔”
یہ ڈرامہ اپنی شدید بیانیہ نوعیت کی وجہ سے توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے، جس کا دارومدار فرحان کی اس صلاحیت پر ہے کہ وہ ایک ایسے شخص کی عکاسی کریں جس کا اخلاقی پیمانہ ٹوٹ چکا ہے۔ اداکار کا ماننا ہے کہ مکالمے یا جھگڑے کے مناظر سے زیادہ مشکل وہ خاموش لمحات ہیں جہاں انہیں اپنے کردار کے زہریلے فیصلوں کو جواز فراہم کرنا پڑتا ہے۔
فرحان اس تاریکی کو گلیمرائز کرنے سے گریزاں ہیں۔ وہ اس کردار کو معاشرتی رویوں کا آئینہ سمجھتے ہیں جنہیں اکثر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ کردار کی تلخی کو گہرائی سے نبھا کر وہ ناظرین کو مجبور کرنا چاہتے ہیں کہ وہ اس طرح کے رویوں کے نتائج پر غور کریں، بجائے اس کے کہ وہ صرف کردار کی حمایت یا مخالفت میں الجھے رہیں۔
ناقدین کا ماننا ہے کہ یہ پرفارمنس ان کے پچھلے کام سے بالکل مختلف ہے، جو ان کی فنکارانہ پختگی کو ظاہر کرتی ہے جہاں وہ دلکشی کے بجائے حقیقت پسندی کو ترجیح دے رہے ہیں۔ انڈسٹری اکثر محفوظ اور پسندیدہ کرداروں کو سراہتی ہے، لیکن فرحان کا ماننا ہے کہ ناظرین اب کچھ زیادہ حقیقت پسندانہ اور تلخ کہانیوں کے لیے تیار ہیں۔
پروڈکشن ٹیم نے سیٹ پر ماحول کو سخت پیشہ ورانہ رکھا تاکہ مناظر کی شدت برقرار رہے۔ اس کے باوجود، فرحان تسلیم کرتے ہیں کہ کہانی کا جذباتی وزن ہر کسی کے لیے محسوس کیا جا سکتا ہے۔
وہ اپنے کردار کے لیے ہمدردی کے متلاشی نہیں، بلکہ وہ اس جدوجہد کے حقیقی اظہار پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں۔ فرحان کے لیے ’بس تیرا ساتھ ہو‘ کی کامیابی کا معیار صرف ریٹنگ نہیں، بلکہ یہ ہے کہ وہ ناظرین کو کتنا بے چین کر سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا، "اگر لوگ ڈرامہ دیکھ کر بے چین محسوس کرتے ہیں، تو سمجھ لیں کہ میں نے اپنا کام بخوبی کر دیا ہے۔”
