برطانیہ میں گھروں کو گرم رکھنے کے نظام کو ماحول دوست بنانے کا عمل شدید تعطل کا شکار ہے۔ کلائمیٹ چینج کمیٹی کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق ہیٹ پمپس کی تنصیب کی رفتار بری طرح سست پڑ گئی ہے، جس کی بنیادی وجہ حکومتی مراعات میں کٹوتی اور ماحولیاتی اہداف سے متعلق پالیسیوں میں نرمی ہے۔
ملک 2050 تک نیٹ زیرو کے ہدف تک پہنچنے کی دوڑ میں ہے، لیکن ہیٹ پمپس کی موجودہ تنصیب اس ہدف کے حصول کے لیے ناکافی ہے۔ حکومت نے 2028 تک سالانہ 6 لاکھ ہیٹ پمپس لگانے کا عزم ظاہر کیا تھا، مگر موجودہ صورتحال بتاتی ہے کہ اگر پالیسیوں میں فوری تبدیلی نہ لائی گئی تو یہ ہدف نصف سے بھی کم رہ جائے گا۔
کلائمیٹ چینج کمیٹی کے ایک سینئر تجزیہ کار کا کہنا ہے کہ "پالیسی کا منظرنامہ اس وقت غیر یقینی کا شکار ہے۔ گھر کے مالکان نہ صرف الجھن کا شکار ہیں بلکہ وہ بھاری ابتدائی اخراجات کے باعث بھی پیچھے ہٹ رہے ہیں، کیونکہ حکومتی سبسڈی اب ان اخراجات کو پورا کرنے کے لیے ناکافی ہے۔”
اس تعطل کی بڑی وجہ ‘بوائلر اپ گریڈ اسکیم’ کے دائرہ کار میں کمی ہے۔ اگرچہ گرانٹ کی رقم برقرار ہے، لیکن اہلیت کے معیار کو اتنا سخت کر دیا گیا ہے کہ عام شہریوں کی پہنچ سے باہر ہے۔ ایک عام گھرانے کے لیے گیس بوائلر سے ہیٹ پمپ پر منتقلی کا خرچ 8 ہزار سے 15 ہزار پاؤنڈ تک ہے، اور حکومتی حمایت کے بغیر یہ بوجھ اٹھانا زیادہ تر خاندانوں کے لیے ناممکن ہے۔
صنعتی ماہرین کے مطابق مانگ میں کمی کے بعد مینوفیکچررز نے اپنی پروڈکشن لائنز کو محدود کرنا شروع کر دیا ہے۔ یہ ہچکچاہٹ پوری سپلائی چین کو متاثر کر رہی ہے، جس کے نتیجے میں نئے انسٹالرز کی تربیت اور ورک فورس کی تیاری کا عمل بھی سست پڑ گیا ہے۔
حکومت کا موقف ہے کہ مارکیٹ کے عوامل بالآخر قیمتوں میں کمی لائیں گے اور نجی شعبے کی جدت ہی اس تبدیلی کا انجن ثابت ہوگی۔ تاہم سی سی سی کی رپورٹ اس کے برعکس تصویر پیش کرتی ہے: سرکاری اشاروں کے بغیر، نجی شعبہ نئی کلین-ٹیک ٹیکنالوجی پر سرمایہ کاری کا خطرہ مول لینے کے بجائے روایتی گیس انفراسٹرکچر پر ہی انحصار کر رہا ہے۔
موسم سرما کی آمد اور توانائی کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے درمیان، جیواشم ایندھن پر انحصار لاکھوں گھرانوں کو عالمی منڈی کے جھٹکوں کے سامنے کمزور کر رہا ہے۔ یہ صرف ایک ماحولیاتی ہدف نہیں بلکہ قومی توانائی کی سلامتی کا معاملہ بھی ہے۔
فی الحال حکومت کا نیٹ زیرو روڈ میپ ایک ٹھوس حکمت عملی کے بجائے محض ایک تجویز محسوس ہوتا ہے۔ اگر خزانہ ڈویژن نے فنڈنگ کا خلا پُر نہ کیا، تو برطانیہ 2030 کے ہیٹ پمپ اہداف سے بہت پیچھے رہ جائے گا، اور ملک کا ہاؤسنگ سیکٹر دہائیوں تک کاربن خارج کرنے والے ہیٹنگ سسٹم کا قیدی بنا رہے گا۔
