اسلام آباد: صدر آصف علی زرداری نے فنانس بل 2026 کی منظوری دے دی ہے، جس کے بعد مالی سال 27-2026 کے لیے 18.8 کھرب روپے کا وفاقی بجٹ باضابطہ طور پر نافذ ہو گیا۔
صدر کی منظوری کے بعد پارلیمنٹ سے منظور شدہ فنانس بل آئین کے مطابق قانون کی شکل اختیار کر گیا ہے، جس سے حکومت کو نئے مالی سال کے بجٹ پر عمل درآمد کا اختیار حاصل ہو گیا ہے۔
فنانس بل میں ٹیکس اصلاحات، کسٹمز اور انکم ٹیکس قوانین میں متعدد ترامیم، ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے، محصولات میں اضافے اور معاشی اصلاحات کے لیے مختلف اقدامات شامل کیے گئے ہیں۔ بجٹ میں انفراسٹرکچر، تعلیم، صحت، دفاع، ترقیاتی منصوبوں اور سماجی بہبود کے شعبوں کے لیے بھی خطیر فنڈز مختص کیے گئے ہیں۔
حکومتی حکام کے مطابق بجٹ کا مقصد مالیاتی نظم و ضبط برقرار رکھتے ہوئے معاشی ترقی کو فروغ دینا، سرمایہ کاری میں اضافہ کرنا اور کمزور طبقات کو ریلیف فراہم کرنا ہے۔ حکومت کو امید ہے کہ نئے مالیاتی اقدامات سے سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہوگا اور ملکی معیشت کو مزید استحکام ملے گا۔
معاشی ماہرین کے مطابق فنانس ایکٹ 2026 پر مؤثر عمل درآمد حکومت کی مالیاتی کارکردگی کے لیے انتہائی اہم ہوگا۔ ان کا کہنا ہے کہ محصولات کے اہداف حاصل کرنے اور اخراجات کو قابو میں رکھنے سے ہی بجٹ کے مقاصد کامیابی سے حاصل کیے جا سکیں گے۔
صدر کی منظوری کے بعد فنانس ایکٹ 2026 نئے مالی سال کے آغاز سے نافذ العمل ہو گیا ہے، جس کے تحت حکومت اپنے نئے ٹیکس اور مالیاتی اقدامات پر عمل درآمد کرے گی۔
