اٹلی کا سب سے طویل دریا ’پو‘ گزشتہ 70 برسوں کی نچلی ترین سطح پر آ چکا ہے، اور شمالی اٹلی کے میدانی علاقوں میں آباد کسانوں کے لیے پانی کا یہ قحط محض ایک موسم نہیں، بلکہ تباہی کا پیش خیمہ ہے۔
یہ دریا جو پو ویلی کی زرخیز زمینوں کی شہ رگ مانا جاتا ہے، اب جگہ جگہ کیچڑ اور جمود زدہ تالابوں میں تبدیل ہو چکا ہے۔ بحیرہ ایڈریاٹک کا کھارا پانی دریا کے خشک راستوں کے ذریعے کلومیٹروں اندر تک زمین میں داخل ہو رہا ہے، جس سے وہ فصلیں برباد ہو رہی ہیں جو نسلوں سے اس علاقے کی معیشت کا سہارا تھیں۔
پاویا کے قریب چاول کی کاشت کرنے والے مارکو ٹروواتی نے بتایا کہ "ہم اپنی آنکھوں کے سامنے اپنے روزگار کو نمک میں بدلتے دیکھ رہے ہیں۔” انہوں نے مزید کہا کہ دسمبر سے بارش کا ایک قطرہ نہیں برسا اور آبپاشی کی نہریں مکمل طور پر خشک پڑی ہیں۔ "اگر اگلے ہفتے تک بارش نہ ہوئی تو پوری فصل ضائع ہو جائے گی۔”
اس بحران کے اثرات مقامی منڈیوں سے کہیں زیادہ گہرے ہیں۔ پو ویلی اٹلی کی زرعی معیشت کا مرکز ہے، جو ملک کی 40 فیصد خوراک بشمول گندم، مکئی اور چاول پیدا کرتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ آبپاشی کے نظام کی ناکامی سے غذائی اشیاء کی قیمتیں، جو پہلے ہی عالمی دباؤ کا شکار ہیں، مزید اوپر جائیں گی۔
روم میں حکومتی عہدیداروں نے شمالی پانچ خطوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی ہے، تاہم مقامی حکام کا کہنا ہے کہ امداد بہت دیر سے پہنچ رہی ہے۔ پانی ذخیرہ کرنے والے ڈیم اپنی گنجائش کے صرف 20 فیصد پر موجود ہیں، جبکہ کئی صوبوں میں ہائیڈرو الیکٹرک پلانٹس بند ہونے سے توانائی کا بحران بھی سر اٹھا رہا ہے۔
ماہرینِ ماحولیات اسے ایک "خطرناک موسمیاتی امتزاج” قرار دیتے ہیں، جہاں ریکارڈ خشک سردیوں کے فوراً بعد شدید گرمی کی لہر نے رہی سہی کسر نکال دی۔ الپس کے پہاڑوں پر برف باری نہ ہونے کے باعث دریا کو بحال کرنے والا قدرتی پانی کا بہاؤ اب خواب بن چکا ہے۔
یہ بحران اٹلی کے بوسیدہ آبی نظام کی قلعی بھی کھول رہا ہے۔ دہائیوں سے نہروں کی دیکھ بھال اور آبپاشی کے جدید طریقوں سے غفلت برتنے کے باعث، دستیاب پانی کا ایک بڑا حصہ کھیتوں تک پہنچنے سے پہلے ہی ضائع ہو جاتا ہے۔
جہاں کابینہ ہنگامی فنڈز پر بحث کر رہی ہے، وہیں زمین پر موجود کسان حکومتی فیصلوں کے منتظر نہیں۔ اپنی فصلیں بچانے کے لیے کئی کسان غیر قانونی کنویں کھود رہے ہیں، جبکہ بہت سے لوگوں نے کاشتکاری ہی ترک کر دی ہے۔
چلچلاتی دھوپ میں دریائے پو کی خشک ہوتی زمین ایک انتباہ کی طرح ہے۔ پو ویلی کے باسیوں کے لیے، یہ محض ایک خشک موسم نہیں، بلکہ ان کے طرزِ زندگی کے ہمیشہ کے لیے بدل جانے کی علامت ہے۔
