اسلام آباد: وفاقی حکومت نے پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کا انتظامی کنٹرول باضابطہ طور پر عارف حبیب کی قیادت میں قائم کنسورشیم کے حوالے کر دیا ہے، جو قومی ایئرلائن کی نجکاری کے عمل میں ایک اہم پیش رفت قرار دی جا رہی ہے۔
حکومتی حکام کے مطابق قانونی، مالیاتی اور انتظامی مراحل مکمل ہونے کے بعد کنسورشیم نے پی آئی اے کے انتظامی امور سنبھال لیے ہیں۔ اب نئی انتظامیہ روزمرہ آپریشنز، کاروباری حکمت عملی، مالیاتی اصلاحات اور ادارے کی تنظیمِ نو کی ذمہ داری ادا کرے گی۔
حکومت کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد پی آئی اے کو مسلسل مالی خساروں سے نکالنا، ادارے کی کارکردگی بہتر بنانا، مسافروں کو معیاری خدمات فراہم کرنا اور قومی خزانے پر پڑنے والے مالی بوجھ کو کم کرنا ہے۔
حکام کے مطابق نئی انتظامیہ فضائی بیڑے کی جدید کاری، ڈیجیٹل نظام کی بہتری، ملازمین کی تربیت، نئی پروازوں کے آغاز اور بین الاقوامی معیار کے مطابق خدمات کی فراہمی پر توجہ دے گی تاکہ پی آئی اے دوبارہ منافع بخش ادارہ بن سکے۔
ماہرینِ ہوا بازی کا کہنا ہے کہ اگر اصلاحاتی اقدامات مؤثر انداز میں نافذ کیے گئے تو یہ اقدام نہ صرف پی آئی اے کی بحالی بلکہ دیگر سرکاری اداروں کی نجکاری اور سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے بھی مثبت ثابت ہو سکتا ہے۔
