امریکہ بھر میں شدید گرمی کی لہر نے ڈیرے ڈال دیے ہیں، جس سے چار جولائی کی تعطیلات کے لیے کی جانے والی تیاریاں متاثر ہو رہی ہیں۔ بحر الکاہل کے شمال مغرب سے لے کر مشرقی ساحل تک، تقریباً 10 کروڑ افراد ہیٹ الرٹ کی زد میں ہیں۔ نیشنل ویدر سروس نے خبردار کیا ہے کہ درجہ حرارت معمول سے 15 سے 20 ڈگری تک زیادہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔
موسمیاتی ماہرین کے مطابق گرمی کا یہ زور بدھ اور جمعہ کے درمیان عروج پر ہوگا۔ کیلیفورنیا اور جنوب مغربی ریاستوں میں پارہ 110 ڈگری فارن ہائیٹ تک پہنچنے کا امکان ہے، جو نہ صرف معمول کی سرگرمیوں کے لیے خطرہ ہے بلکہ انسانی صحت کے لیے بھی تشویشناک ہے۔
اس گرمی میں سب سے بڑا خطرہ رات کے وقت درجہ حرارت کا کم نہ ہونا ہے۔ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ جب رات کو ٹھنڈک نہیں ملتی، تو انسانی جسم دن بھر کی تپش سے بحال نہیں ہو پاتا، جس سے ہیٹ اسٹروک اور جسمانی تھکن کے کیسز میں تیزی سے اضافہ ہوتا ہے۔
نیشنل ویدر سروس کے ایک ماہر نے منگل کے روز بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ "یہ ایک طویل اور خطرناک صورتحال ہے۔ ہم اس وقت ان علاقوں میں ہیں جہاں درجہ حرارت کی سطح برداشت سے باہر ہو رہی ہے۔”
تعطیلات کے دوران پارکوں، ساحلوں اور آتش بازی کے مقامات پر ہجوم متوقع ہے، جس کے پیش نظر ایمرجنسی سروسز کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔ حکام نے شہریوں بالخصوص بزرگوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ دوپہر کے اوقات میں گھروں سے باہر نکلنے سے گریز کریں اور پانی کا زیادہ سے زیادہ استعمال کریں۔
گرمی کے اس شدید دباؤ نے بجلی کے نظام کو بھی چیلنج کر دیا ہے۔ یوٹیلٹی کمپنیوں نے خبردار کیا ہے کہ ائیر کنڈیشننگ کے بے جا استعمال سے گرڈ پر بوجھ بڑھ سکتا ہے۔ اگرچہ حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ فی الحال بجلی کا نظام مستحکم ہے، تاہم شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ دوپہر کے اوقات میں تھرموسٹیٹ کو 78 ڈگری پر سیٹ رکھیں تاکہ لوڈشیڈنگ کے امکان کو کم کیا جا سکے۔
موسمیاتی پیش گوئی کے مطابق ہفتے کے روز ایک ٹھنڈی ہواؤں کا سلسلہ وسطی امریکہ میں داخل ہوگا، جس سے کچھ علاقوں میں درجہ حرارت کم ہونے کی توقع ہے۔ تاہم، مشرقی ساحل پر گرمی کا یہ سلسلہ ویک اینڈ تک جاری رہ سکتا ہے، جس سے چار جولائی کی تقریبات شدید گرمی میں گزرنے کا خدشہ ہے۔
صحت کے حکام کا مشورہ ہے کہ باہر نکلتے وقت ہلکے لباس کا انتخاب کریں اور دھوپ سے بچاؤ کو یقینی بنائیں۔ گرمی کی شدت کو نظر انداز کرنا فوری طبی پیچیدگیوں کا باعث بن سکتا ہے، کیونکہ اگلے 72 گھنٹے انتہائی حساس قرار دیے گئے ہیں۔
