امریکا میں 2025 کے دوران عارضی اعداد و شمار کے مطابق اموات کی شرح میں 4.6 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، جبکہ دل کی بیماری، کینسر اور غیر ارادی چوٹیں بدستور اموات کی بڑی وجوہات رہیں۔ یہ بات امریکی سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن (سی ڈی سی) نے جمعرات کو جاری کردہ رپورٹ میں بتائی۔
عمر کے لحاظ سے ایڈجسٹ کی گئی اموات کی شرح ایک سال قبل 722.1 فی ایک لاکھ افراد سے کم ہو کر 689.2 فی ایک لاکھ افراد ہو گئی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ 2021 میں کووڈ-19 وبا کے دوران بلند ترین سطح پر پہنچنے کے بعد یہ شرح مسلسل کم ہو رہی ہے۔
مطالعے کی مرکزی مصنفہ فریدہ احمد کے مطابق اس کمی کی ایک وجہ مہلک منشیات کے اوور ڈوز کے واقعات میں مسلسل کمی بھی ہے، جنہیں غیر ارادی چوٹوں یا حادثات کے زمرے میں شمار کیا جاتا ہے۔
تاہم 2025 میں انفلوئنزا اور نمونیا سے ہونے والی اموات میں 17 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا اور یہ تعداد 56 ہزار 511 تک پہنچ گئی۔ سی ڈی سی کے نیشنل سینٹر فار ہیلتھ اسٹیٹسٹکس کی عارضی رپورٹ کے مطابق یہ امراض ایک سال قبل گیارہویں نمبر سے بڑھ کر ملک میں اموات کی آٹھویں بڑی وجہ بن گئے۔
فریدہ احمد نے کہا کہ 2025 میں خاص طور پر جنوری اور فروری کے دوران فلو کا سیزن شدید رہا، جس کے نتیجے میں فلو سے بڑی تعداد میں اموات ہوئیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ماضی میں شدید فلو سیزن کو دائمی بیماریوں سے ہونے والی اموات میں اضافے سے جوڑا گیا ہے اور ممکن ہے کہ 2025 میں دل کی بیماریوں سے اموات میں تقریباً 1.6 فیصد اضافے کی ایک وجہ یہ بھی ہو۔
ادارے کے مطابق 2024-25 کے فلو سیزن کے دوران موسمی فلو سے متعلق اسپتالوں میں داخلوں اور آؤٹ پیشنٹ وزٹس کی تعداد گزشتہ 15 برسوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔
امریکی انڈین افراد میں اموات کی شرح میں اضافہ:
امریکی انڈین اور الاسکا نیٹو افراد میں اموات کی شرح بڑھ کر 803.8 فی ایک لاکھ افراد ہو گئی، جبکہ نیٹو ہوائی یا دیگر پیسیفک آئی لینڈر افراد میں یہ شرح بڑھ کر 746 فی ایک لاکھ افراد تک پہنچ گئی۔
سیاہ فام امریکیوں میں اموات کی شرح 869 فی ایک لاکھ افراد رہی، جس میں معمولی بہتری دیکھی گئی، تاہم یہ اب بھی تمام نسلی گروہوں میں سب سے زیادہ رہی۔ ایشیائی افراد میں اموات کی شرح تقریباً مستحکم رہی۔
سفید فام امریکیوں، جو ریکارڈ کی گئی مجموعی اموات کا تقریباً 74.5 فیصد تھے، میں اموات کی شرح کم ہو کر 724.2 فی ایک لاکھ افراد رہ گئی۔
سی ڈی سی نے خبردار کیا ہے کہ یہ نتائج عارضی ڈیتھ سرٹیفکیٹ ڈیٹا پر مبنی ہیں اور مزید ریکارڈز کی پروسیسنگ کے بعد ان میں تبدیلی آ سکتی ہے۔ بعض وجوہاتِ اموات، خاص طور پر غیر ارادی چوٹوں سے متعلق اعداد و شمار، تاخیر سے رپورٹ ہوتے ہیں اور بعد میں ان کی تعداد میں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔
ادارے نے یہ بھی نشاندہی کی کہ مختلف ریاستوں میں رپورٹنگ کے وقت میں فرق، ڈیتھ سرٹیفکیٹس پر نسل اور قومیت کی ممکنہ غلط درجہ بندی، اور مردم شماری کے آبادیاتی تخمینوں میں تبدیلیاں بعض تقابلی نتائج کو متاثر کر سکتی ہیں۔
