سندھ حکومت نے کیرتھر نیشنل پارک میں درختوں کی غیر قانونی کٹائی روکنے کے لیے سخت اقدامات کا فیصلہ کیا ہے۔ وائلڈ لائف رینجرز کو ان علاقوں میں تعینات کیا جا رہا ہے جہاں ٹمبر مافیا کئی ماہ سے سرگرم عمل تھی اور مقامی جنگلات کو بے دریغ کاٹ رہی تھی۔
محکمہ ماحولیات کے حکام نے منگل کی رات جاری کردہ ہدایات میں ضلعی فاریسٹ افسران کو حکم دیا ہے کہ پارک کے محفوظ علاقوں میں پائی جانے والی تمام غیر رجسٹرڈ مشینری اور گاڑیوں کو فوری طور پر قبضے میں لیا جائے۔ یہ اقدام ان تحفظاتی ماہرین کے دباؤ کے بعد سامنے آیا ہے جنہوں نے مقامی درختوں، خاص طور پر ’کیکر‘ اور ’کنڈی‘ کی تیزی سے ہوتی کٹائی کی نشاندہی کی تھی۔
پارک میں موجود جنگلی حیات کے لیے یہ صورتحال انتہائی تشویشناک ہے۔ کیرتھر نیشنل پارک سندھ کے نایاب ’سندھ آئی بیکس‘ اور ’اڑیال‘ کا بنیادی مسکن ہے۔ جنگلات کا رقبہ کم ہونے سے ان جانوروں کے پاس نہ صرف چھپنے کی جگہ نہیں رہی بلکہ ان کی خوراک کے ذرائع بھی ختم ہو رہے ہیں، جس کے باعث یہ جانور انسانی بستیوں کے قریب آ کر شکاریوں کا آسان ہدف بن رہے ہیں۔
محکمہ وائلڈ لائف کے ایک سینئر افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ "ہم صرف درخت نہیں کھو رہے، بلکہ اس پارک کو زندہ رکھنے والا قدرتی حصار ختم ہو رہا ہے۔ لکڑی کی کٹائی رات کے اندھیرے میں کی جاتی ہے، اور اکثر ایسے راستے استعمال کیے جاتے ہیں جو ہماری مرکزی چیک پوسٹوں سے دور ہیں۔”
حکومت کی نئی حکمت عملی میں محکمہ وائلڈ لائف اور مقامی پولیس کے درمیان مربوط کارروائی کو مرکزیت دی گئی ہے۔ ماضی میں اس طرح کی کوششیں محکموں کے درمیان عدم تعاون کی وجہ سے ناکام رہی تھیں۔ اس بار فاریسٹ ڈیپارٹمنٹ کو مسلح مزاحمت کی صورت میں طاقت کے استعمال کا اختیار بھی دیا گیا ہے، جو 3 ہزار مربع کلومیٹر پر محیط اس ریزرو کی حفاظت کے لیے ایک اہم پیش رفت ہے۔
ماہرین ماحولیات کو اس کریک ڈاؤن کے دیرپا نتائج پر تحفظات ہیں۔ اگرچہ حکومتی کارروائی سیاسی عزم کو ظاہر کرتی ہے، لیکن قریبی شہری مراکز میں کوئلے اور جلانے والی لکڑی کی طلب اب بھی برقرار ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ جب تک مقامی آبادی کے لیے ایندھن کا کوئی متبادل ذریعہ فراہم نہیں کیا جاتا، تب تک لکڑی مافیا گشت ختم ہونے کا انتظار کر کے دوبارہ سرگرم ہو جائے گی۔
محکمہ جنگلات اب پارک کی حدود میں ہونے والی گرفتاریوں اور ضبط شدہ سامان کی ہفتہ وار رپورٹ مرتب کرنے کا پابند ہے۔ کیا یہ اقدام واقعی تحفظِ جنگلات میں ایک مستقل تبدیلی لائے گا یا یہ صرف رسمی کارروائی ثابت ہوگی، اس کا فیصلہ خشک موسم کے دوران ہونے والی پیش رفت سے ہوگا۔
