کراچی کے گل پلازہ میں گزشتہ برس لگنے والی ہولناک آگ کے معاملے میں ایک 11 سالہ بچے پر مقدمہ چلایا جائے گا۔ جووینائل کورٹ نے طویل تفتیش کے بعد یہ فیصلہ سناتے ہوئے اسے عدالتی کارروائی کا حصہ بنا دیا ہے، جو شہر کی قانونی تاریخ میں ایک غیر معمولی اور متنازع موڑ ہے۔
شہر کے مصروف ترین تجارتی مرکز میں لگنے والی اس آگ سے کروڑوں روپے مالیت کا سامان خاکستر ہو گیا اور درجنوں دکاندار بے روزگار ہو گئے۔ ابتدائی طور پر اسے محض غفلت کا نتیجہ سمجھا جا رہا تھا، لیکن مرکزی ملزم کے کم عمر ہونے کا انکشاف اب قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے ایک اخلاقی اور قانونی چیلنج بن چکا ہے۔
کیس سے واقف ایک وکیل نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ "ہم ایک ایسے بچے کے ساتھ معاملہ کر رہے ہیں جو شاید اپنے عمل کی سنگینی کو پوری طرح نہیں سمجھتا۔ عدالت کو اب یہ طے کرنا ہے کہ وہ مجرم ہے یا حالات کا مارا ہوا ایک بچہ۔”
پولیس رپورٹس کے مطابق، بچے کو سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے شناخت کیا گیا، جس میں اسے دھوئیں کے بادل اٹھنے سے کچھ دیر قبل جائے وقوعہ کے قریب دیکھا گیا تھا۔ تفتیشی حکام کا دعویٰ ہے کہ بچے نے دورانِ حراست آگ لگانے کا اعتراف کر لیا ہے، تاہم انسانی حقوق کی تنظیموں نے تفتیشی عمل کے دوران اپنائے گئے طریقوں پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
یہ ٹرائل ‘جووینائل جسٹس سسٹم ایکٹ’ کی حدود کا امتحان ہوگا۔ قانون کے تحت بچے کی شناخت ظاہر نہیں کی جا سکتی اور کارروائی بند کمرے میں ہوگی تاکہ اس کی رازداری برقرار رہے۔ تاہم، جن دکانداروں کا کاروبار تباہ ہوا، ان کے لیے ملزم کی عمر سے زیادہ اپنی تباہ شدہ زندگیوں کی بحالی اہم ہے۔
گل پلازہ میں کپڑے کی دکان کے مالک محمد اقبال کہتے ہیں، "میری دکان ختم، میری جمع پونجی ختم۔ مجھے اس سے غرض نہیں کہ ملزم کی عمر کیا ہے، مجھے صرف یہ جاننا ہے کہ اس تباہی کا ازالہ کون کرے گا؟”
استغاثہ نے عدالتی کارروائی کے دوران فرانزک شواہد اور گواہوں کے بیانات پیش کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ واقعے کا حتمی ٹائم لائن واضح کیا جا سکے۔ اگر جرم ثابت ہوتا ہے تو بچے کو عام جیل کے بجائے اصلاحی مرکز (جووینائل ریفارمیٹری) بھیجے جانے کا امکان ہے۔
یہ مقدمہ شہر میں بچوں کے حقوق اور ان کی نگہداشت پر ایک سنجیدہ بحث کو جنم دے رہا ہے، جہاں گلیوں میں رہنے والے بچے اکثر استحصال کا شکار ہوتے ہیں۔ عدالت کا فیصلہ صرف ایک بچے کی قسمت کا تعین نہیں کرے گا، بلکہ یہ اس بات کا بھی تعین کرے گا کہ ریاست سنگین جرائم میں ملوث بچوں کے ساتھ کس طرح نمٹتی ہے۔
