کراچی کے علاقے کورنگی میں منگل کی شب پولیس کی فائرنگ سے دو نوجوان شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد مقامی رہائشیوں نے سڑک پر نکل کر شدید احتجاج کیا اور اسے پولیس گردی قرار دیا۔
زخمیوں کی شناخت 20 سالہ حمزہ اور 19 سالہ شہباز کے نام سے ہوئی ہے۔ دونوں نوجوان موٹر سائیکل پر سوار بلال کالونی کراسنگ کے قریب سے گزر رہے تھے کہ وہاں موجود پولیس اہلکاروں نے انہیں رکنے کا اشارہ کیا۔ عینی شاہدین کے مطابق نوجوانوں کے نہ رکنے پر اہلکاروں نے براہ راست فائرنگ کر دی۔ گولیاں لگنے سے دونوں نوجوان خون میں لت پت ہو کر گر پڑے جنہیں فوری طور پر جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر منتقل کیا گیا۔ ہسپتال ذرائع کے مطابق دونوں زخمیوں کی حالت اب خطرے سے باہر ہے۔
ایس ایس پی کورنگی نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے انکوائری کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔ ابتدائی کارروائی کے طور پر فائرنگ کرنے والے دونوں اہلکاروں کو معطل کر کے انہیں پولیس لائن رپورٹ کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ پولیس حکام کا دعویٰ ہے کہ واقعے کی تحقیقات شفاف انداز میں کی جائیں گی تاکہ تعین ہو سکے کہ طاقت کا استعمال ضابطہ اخلاق کے مطابق تھا یا نہیں۔
کراچی میں پولیس پیٹرولنگ ٹیموں اور شہریوں کے درمیان یہ پہلا واقعہ نہیں۔ اس سے قبل بھی "اسٹاپ اینڈ سرچ” کے دوران طاقت کے بے جا استعمال کی شکایات سامنے آتی رہی ہیں۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ پولیس کی جانب سے معمولی تکرار پر گولی چلانے کا رجحان بڑھ رہا ہے جو کسی بھی وقت کسی بڑی انسانی المیے کا سبب بن سکتا ہے۔
زخمیوں کے اہل خانہ نے مطالبہ کیا ہے کہ ذمہ دار اہلکاروں کو محض معطلی نہیں بلکہ سخت قانونی کارروائی کا سامنا کرنا چاہیے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ محکمہ پولیس کی جانب سے شروع کی گئی یہ انکوائری کسی منطقی انجام تک پہنچتی ہے یا پھر روایتی کارروائیوں کی طرح دبا دی جاتی ہے۔
