اسلام آباد — ورلڈ بینک کے ایگزیکٹو ڈائریکٹرز نے پاکستان کے بجلی کے ترسیلی نظام کو بہتر بنانے کے لیے 375.9 ملین ڈالر کی فنانسنگ کی منظوری دے دی ہے۔ اس منصوبے کا بنیادی مقصد ملک بھر میں بجلی کے گرڈ کی بار بار ہونے والی خرابیوں کو روکنا اور نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنا ہے۔
اس فنڈنگ کا ہدف نیشنل ٹرانسمیشن اینڈ ڈسپیچ کمپنی (این ٹی ڈی سی) کا نیٹ ورک ہے۔ منصوبے کے تحت ہائی وولٹیج لائنوں اور سب اسٹیشنوں کو اپ گریڈ کیا جائے گا تاکہ بجلی کے ضیاع کو کم کیا جا سکے اور جنوری 2023 میں پیش آنے والے ملک گیر بلیک آؤٹ جیسے واقعات کی روک تھام ممکن ہو سکے۔
پاکستان کے توانائی کے شعبے کے لیے یہ سرمایہ کاری محض تکنیکی بہتری نہیں، بلکہ ایک ہنگامی ضرورت ہے۔ ملک طویل عرصے سے ‘سرکلر ڈیٹ’ (گردشی قرضوں) کے بھنور میں پھنسا ہوا ہے، جہاں پرانی تنصیبات اور ناقص تقسیم کا بوجھ ان صارفین پر ڈالا جاتا ہے جو پہلے ہی مہنگائی کی چکی میں پس رہے ہیں۔
ورلڈ بینک کے کنٹری ڈائریکٹر برائے پاکستان، ناجی بن حسین کا کہنا ہے کہ یہ فنانسنگ این ٹی ڈی سی کو گرڈ کی فعالیت کو بہتر بنانے اور قابلِ تجدید توانائی کو نظام میں شامل کرنے میں مدد دے گی۔ ان کے مطابق، یہ منصوبہ خاص طور پر ان علاقوں میں صلاحیت بڑھانے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے جہاں بجلی کی طلب رسد سے کہیں زیادہ ہے۔
منصوبے کا اہم حصہ ٹرانسمیشن لائنوں کی اپ گریڈیشن اور جدید مانیٹرنگ سسٹمز کی تنصیب ہے۔ گرڈ کو ڈیجیٹل کرنے سے فالٹس کی نشاندہی فوری ممکن ہوگی، جس سے لاکھوں صارفین کے لیے بجلی کی بندش کے دورانیے میں کمی متوقع ہے۔
تاہم، اس منصوبے کے سامنے سب سے بڑی رکاوٹ ماضی کی طرح ‘عملدرآمد’ کا چیلنج ہے۔ ماضی میں بھی اسی نوعیت کے کئی منصوبے بیوروکریسی کی سستی اور سرکاری پاور کمپنیوں کے مالیاتی بحران کے باعث تاخیر کا شکار ہوتے رہے ہیں۔ ورلڈ بینک نے اس بار فنڈز کو مخصوص کارکردگی کے اہداف سے مشروط کیا ہے، جس کے تحت این ٹی ڈی سی کو منصوبے کی مکمل تکمیل سے قبل مالیاتی انتظام اور آپریشنل کارکردگی میں بہتری ثابت کرنا ہوگی۔
اگرچہ یہ سرمایہ کاری ایک عارضی سہارا فراہم کرتی ہے، لیکن یہ توانائی کے شعبے کے بنیادی ڈھانچائی بحران کا مکمل حل نہیں۔ ملک کا توانائی کا شعبہ ہر سال بجلی چوری اور فرسودہ نظام کے باعث اربوں روپے کا نقصان اٹھا رہا ہے۔
حکومت کے لیے یہ منصوبہ ایک امتحان کی حیثیت رکھتا ہے۔ اگر فنڈز کا درست استعمال ہوا تو یہ صنعتی پیداوار میں بہتری کا باعث بن سکتا ہے، لیکن اگر ماضی کی طرح یہ رقم بھی نااہلی کی نذر ہو گئی، تو یہ اصلاحات کی طویل فہرست میں ایک اور ضائع شدہ موقع ثابت ہوگا۔
فی الحال پاکستان کا گرڈ لائف سپورٹ پر ہے، اور اب دیکھنا یہ ہے کہ آیا یہ اپ گریڈیشن اگلی بار بجلی کی طلب میں اضافے کے دوران سسٹم کو برقرار رکھنے میں کامیاب ہوتی ہے یا نہیں۔
