بٹ کوائن کی قیمت منگل کی صبح 64 ہزار ڈالر کی نفسیاتی حد سے تجاوز کر گئی، جو دنیا کی سب سے بڑی کرپٹو کرنسی کے لیے ایک نمایاں بحالی ہے۔ یہ تیزی ایک طویل جمود کے بعد دیکھی گئی ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سرمایہ کاروں کا رسک لینے کا رجحان دوبارہ بیدار ہو رہا ہے۔
اگست کے آخر سے اب تک بٹ کوائن اس سطح کو چھونے میں ناکام رہا تھا۔ بڑی ایکسچینجز پر راتوں رات ٹریڈنگ والیوم میں اضافہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ یہ محض خوردہ سرمایہ کاروں کی عارضی دلچسپی نہیں، بلکہ مارکیٹ کے مجموعی مزاج میں ایک بڑی تبدیلی ہے۔
اس تیزی کے پیچھے کئی عوامل کارفرما ہیں۔ ماہرین امریکی افراطِ زر کے اعداد و شمار میں کمی اور فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود میں کٹوتی کے فیصلے کو کلیدی حیثیت دیتے ہیں۔ قرض لینے کی لاگت میں کمی عام طور پر سرمایہ کاروں کو زیادہ منافع بخش اثاثوں کی طرف دھکیلتی ہے، اور بٹ کوائن اب اس لیکویڈیٹی کے لیے ایک بیرومیٹر کی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔
ڈیجیٹل اثاثوں کی ایک فرم کے لیڈ اینالسٹ مارکس تھیل کہتے ہیں، "مارکیٹ بالآخر سازگار معاشی حالات کو مدنظر رکھ رہی ہے۔ سرمایہ کار ہفتوں تک کنارے پر بیٹھے رہے، لیکن اب ‘موقع ہاتھ سے نکل جانے کا خوف’ غیر یقینی صورتحال پر حاوی ہو رہا ہے۔”
اگرچہ بٹ کوائن 64 ہزار ڈالر سے اوپر ہے، لیکن اتار چڑھاؤ اب بھی برقرار ہے۔ ستمبر کے اوائل میں اس اثاثے کی قیمت میں 15 فیصد تک کمی دیکھی گئی تھی، جس کے بعد اس نے 53 ہزار ڈالر کے قریب سہارا لیا۔ ٹریڈرز اب اس بات پر نظر رکھے ہوئے ہیں کہ کیا یہ تیزی 65 ہزار ڈالر کی مزاحمتی سطح کو توڑ پاتی ہے، جو گزشتہ چھ ماہ سے اوپر جانے کی راہ میں رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔
اس تیزی کے اثرات پوری کرپٹو مارکیٹ پر دکھائی دے رہے ہیں۔ ایتھیریم اور سولانا میں بھی بالترتیب 3 اور 5 فیصد اضافہ ہوا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سرمایہ دوبارہ وسیع تر ایکو سسٹم میں داخل ہو رہا ہے۔
اب سب کی نظریں جمعہ کو آنے والی امریکی ملازمتوں کی رپورٹ پر ہیں۔ اگر لیبر مارکیٹ میں نرمی کے آثار دکھائی دیے اور معیشت مندی کا شکار نہیں ہوئی، تو بٹ کوائن کی یہ رفتار مزید بڑھ سکتی ہے۔ تاہم، اگر اعداد و شمار توقعات کے برعکس آئے تو شرح سود میں بڑی کٹوتی کی امیدیں دم توڑ سکتی ہیں، جس کے نتیجے میں مارکیٹ میں تیزی سے گراوٹ بھی ممکن ہے۔
