سندھ حکومت نے کراچی یونیورسٹی میں طلبہ تنظیموں کے درمیان ہونے والے پرتشدد تصادم کی تحقیقات کے لیے ایک اعلیٰ سطحی انکوائری کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔ یہ اقدام اس وقت سامنے آیا ہے جب کیمپس میں کشیدگی کے باعث نہ صرف متعدد طلبہ زخمی ہوئے بلکہ تعلیمی سرگرمیاں بھی عارضی طور پر معطل کرنا پڑیں۔
صوبائی حکام کے مطابق، کمیٹی کی سربراہی محکمہ یونیورسٹیز اینڈ بورڈز کے ایک سینئر افسر کریں گے۔ تحقیقاتی ٹیم کو 48 گھنٹے کے اندر اپنی رپورٹ جمع کرانے کی سخت ہدایت دی گئی ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت کیمپس میں نظم و ضبط کی بحالی کے لیے دباؤ میں ہے۔
منگل کے روز پیش آنے والے اس واقعے میں طلبہ تنظیموں کے کارکنوں نے یونیورسٹی کے انتظامی بلاک کے قریب ایک دوسرے پر لاٹھیوں اور پتھروں کا آزادانہ استعمال کیا۔ عینی شاہدین کے مطابق، کیمپس میں افراتفری کا عالم تھا اور طلبہ اپنی جان بچانے کے لیے بھاگتے رہے۔ تصادم کے نتیجے میں کم از کم تین طلبہ کے سر پر چوٹیں آئیں، جنہیں طبی امداد کے بعد ہسپتال سے فارغ کر دیا گیا ہے۔
یونیورسٹی انتظامیہ کو اس کشیدگی کو روکنے میں ناکامی پر شدید تنقید کا سامنا ہے۔ نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر فیکلٹی ممبران نے بتایا کہ سیکیورٹی کی ناقص صورتحال اور طلبہ تنظیموں کا سیاسی اثر و رسوخ ہی اس عدم استحکام کی بنیادی وجہ ہے۔
ایک سینئر پروفیسر نے کہا، "ہم اپنے کلاس رومز کو میدانِ جنگ بنتے دیکھ کر تھک چکے ہیں۔ طلبہ یہاں ڈگری حاصل کرنے آتے ہیں، سیاسی انتقام لینے نہیں۔ انتظامیہ نے ہمیشہ مسائل کو روکنے کے بجائے ان کے رونما ہونے کے بعد ردعمل دیا ہے۔”
یہ پہلا موقع نہیں جب کراچی یونیورسٹی کیمپس میں بدامنی کے باعث سرخیوں میں آئی ہو۔ گزشتہ دو برسوں کے دوران طلبہ یونین کی سرگرمیوں اور جگہ کے تنازعات پر اسی طرح کے واقعات بار بار رونما ہوتے رہے ہیں۔ وائس چانسلر کی جانب سے بارہا ‘زیرو ٹالرنس’ پالیسی کے اعلانات کے باوجود، ان واقعات کا تسلسل طلبہ میں مایوسی کا باعث بن رہا ہے۔
انکوائری کمیٹی سے توقع کی جا رہی ہے کہ وہ تشدد کو ہوا دینے والے افراد کی نشاندہی کرے گی اور یہ تعین کرے گی کہ سیکیورٹی پروٹوکول میں کہاں کوتاہی ہوئی۔ اب یہ دیکھنا باقی ہے کہ کیا یہ تحقیقات کسی ٹھوس پالیسی تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہوں گی یا ماضی کی دیگر کمیٹیوں کی طرح یہ رپورٹ بھی کسی الماری کی نذر ہو جائے گی۔
فی الحال یونیورسٹی کیمپس ہائی الرٹ پر ہے اور مرکزی دروازوں پر پولیس کی اضافی نفری تعینات کر دی گئی ہے تاکہ کسی بھی مزید کشیدگی کو روکا جا سکے۔
