پنجاب کے سرکاری ہسپتالوں میں آن لائن کمپیوٹرائزڈ میڈیکولیگل سرٹیفکیٹس اور پوسٹ مارٹم رپورٹس کے اجرا میں تاخیر کا انکشاف ہوا ہے، جبکہ متعدد ہسپتالوں میں اب بھی ہاتھ سے تحریر کردہ رپورٹس جاری کیے جانے کا سلسلہ جاری ہے۔
عدالتِ عالیہ کی جانب سے میڈیکولیگل سرٹیفکیٹس اور پوسٹ مارٹم رپورٹس کو ڈیجیٹلائز کرنے کی ہدایات جاری کی گئی تھیں، تاہم چھ ماہ گزرنے کے باوجود ان پر مکمل عملدرآمد نہیں ہو سکا۔ محکمہ سپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر اینڈ میڈیکل ایجوکیشن نے اس معاملے پر سروسز ہسپتال، نشتر ہسپتال ملتان، علامہ اقبال میموریل ہسپتال سیالکوٹ، علامہ اقبال ہسپتال ڈی جی خان اور ڈاکٹر فیصل مسعود ہسپتال سرگودھا کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹس کو شوکاز نوٹس جاری کیے ہیں۔
ذرائع کے مطابق ہاتھ سے لکھی گئی میڈیکولیگل اور پوسٹ مارٹم رپورٹس میں ردوبدل کے خدشات کے پیش نظر انہیں آن لائن اور کمپیوٹرائزڈ کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا، تاہم ہسپتالوں کو اس مقصد کے لیے نہ مطلوبہ فنڈز فراہم کیے گئے اور نہ ہی اضافی ہیومن ریسورس مہیا کیا گیا۔
دستیاب اعداد و شمار کے مطابق پانچ ہسپتالوں نے مجموعی طور پر 3 ہزار 644 میڈیکولیگل سرٹیفکیٹس اور 283 پوسٹ مارٹم رپورٹس جاری کیں۔ ان میں نشتر ہسپتال ملتان سے 816 میڈیکولیگل سرٹیفکیٹس اور 182 پوسٹ مارٹم رپورٹس، علامہ اقبال میموریل ہسپتال سیالکوٹ سے ایک ہزار 245 میڈیکولیگل سرٹیفکیٹس اور 43 پوسٹ مارٹم رپورٹس، ڈاکٹر فیصل مسعود ہسپتال سرگودھا سے 735 میڈیکولیگل سرٹیفکیٹس اور 48 پوسٹ مارٹم رپورٹس، علامہ اقبال ہسپتال ڈی جی خان سے 768 میڈیکولیگل سرٹیفکیٹس اور 10 پوسٹ مارٹم رپورٹس، جبکہ سروسز ہسپتال لاہور سے 680 میڈیکولیگل سرٹیفکیٹس جاری کیے گئے ، ہاتھ سے میڈیکولیگل سرٹیفکیٹس اور پوسٹ مارٹم رپورٹس تحریر کرنے پر پابندی کے باوجود اس فیصلے پر مؤثر عملدرآمد تاحال نہیں ہو سکا۔
