حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑا اضافہ کر دیا ہے۔ پیٹرول کی قیمت میں 13 روپے 18 پیسے اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 13 روپے 80 پیسے فی لیٹر اضافہ فوری طور پر نافذ کر دیا گیا ہے۔ بدھ کی رات دیر گئے جاری ہونے والے اس نوٹیفکیشن نے عوام کو ایک بار پھر مہنگائی کے جھٹکے سے دوچار کر دیا ہے۔
نئی قیمتوں کے نفاذ کے بعد پیٹرول 283 روپے 38 پیسے جبکہ ڈیزل 303 روپے 18 پیسے فی لیٹر کی سطح پر پہنچ گیا ہے۔ ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کا براہِ راست اثر ٹرانسپورٹ اور زراعت کے شعبوں پر پڑے گا، جس سے اشیائے خورونوش کی نقل و حمل مزید مہنگی ہونے کا امکان ہے۔
پیٹرولیم ڈویژن کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ عالمی منڈی میں قیمتوں کے اتار چڑھاؤ کے باعث حکومت کے پاس قیمتیں بڑھانے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔ تاہم، انہوں نے اس سوال کا جواب نہیں دیا کہ آیا حکومت نے عوامی بوجھ کم کرنے کے لیے ٹیکسوں میں کمی یا سبسڈی پر غور کیا تھا یا نہیں۔
حکومتی حلقے اس اضافے کا ذمہ دار "امپورٹ پیریٹی پرائس” اور عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتوں میں اضافے کو ٹھہراتے ہیں۔ دوسری جانب ماہرینِ معاشیات کا کہنا ہے کہ عالمی منڈی کے اثرات اپنی جگہ، لیکن بجٹ خسارہ پورا کرنے کے لیے پیٹرولیم لیوی کا سہارا لینا ہی مہنگائی کی اصل وجہ ہے۔
اس اضافے سے عام آدمی کی جیب پر بوجھ کئی گنا بڑھ گیا ہے۔ ٹرانسپورٹ یونینز نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ڈیزل کی قیمت میں اضافے کے بعد کرایوں میں ازخود اضافہ ہو جائے گا، جس کا حتمی بوجھ عام صارف کو اٹھانا پڑے گا۔
حکومت کی جانب سے اس مہنگائی کے اثرات کو کم کرنے کے لیے کسی ریلیف پیکج کا اعلان نہیں کیا گیا ہے۔ فی الحال نئی قیمتیں آئندہ جائزے تک برقرار رہیں گی، جس کے باعث متوسط طبقے کے لیے اپنے ماہانہ بجٹ کو متوازن رکھنا ایک نیا چیلنج بن گیا ہے۔
