فیفا کے صدر جیانی انفانٹینو کا 2026 فیفا ورلڈ کپ میں ٹیموں کی تعداد 32 سے بڑھا کر 48 کرنے کا فیصلہ اب کامیاب ثابت ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ اگرچہ اس اعلان کے وقت کئی سابق کھلاڑیوں، ماہرین اور فٹبال حلقوں نے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ زیادہ ٹیمیں شامل ہونے سے مقابلوں کا معیار متاثر ہوگا، لیکن ٹورنامنٹ کے دوران سامنے آنے والے اعداد و شمار نے ان خدشات کو کافی حد تک غلط ثابت کر دیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق دنیا بھر میں بیٹنگ کمپنیوں نے گزشتہ ورلڈ کپ کے مقابلے میں کہیں زیادہ بیٹنگ سرگرمی ریکارڈ کی ہے۔ زیادہ میچز ہونے کی وجہ سے شائقین کو شرط لگانے کے مزید مواقع ملے، جس سے بیٹنگ مارکیٹ میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا۔
امریکا، کینیڈا اور میکسیکو کی مشترکہ میزبانی میں ہونے والا 2026 فیفا ورلڈ کپ تاریخ کا سب سے بڑا ورلڈ کپ ہے۔ فیفا کا کہنا ہے کہ نئے فارمیٹ نے نہ صرف دنیا بھر میں فٹبال کی مقبولیت میں اضافہ کیا بلکہ چھوٹے ممالک کو بھی عالمی سطح پر اپنی صلاحیتیں دکھانے کا بہترین موقع فراہم کیا۔
جیانی انفانٹینو کا کہنا ہے کہ ورلڈ کپ کو وسعت دینے کا مقصد فٹبال کو مزید عالمی بنانا اور زیادہ ممالک کو اس عظیم ٹورنامنٹ کا حصہ بنانا تھا۔ ریکارڈ تماشائی، ٹی وی ناظرین کی بڑی تعداد اور تجارتی آمدنی میں اضافے نے فیفا کے اس فیصلے کو مضبوط بنایا ہے۔
اگرچہ کچھ ناقدین اب بھی اس بات پر زور دیتے ہیں کہ زیادہ ٹیموں کی وجہ سے بعض مقابلوں کا معیار متاثر ہوا، لیکن فیفا کا مؤقف ہے کہ مجموعی طور پر یہ تجربہ کامیاب رہا ہے اور مستقبل میں بھی اسی فارمیٹ کو جاری رکھا جائے گا
