نئی دہلی — ماحولیاتی کارکن سونم وانگچک کی اہلیہ گیتا نجلی نیگی نے دہلی پولیس پر سنگین الزام عائد کیا ہے کہ ان کے شوہر کو ہسپتال میں طبی امداد کی آڑ میں ‘غیر قانونی طور پر نظر بند’ کر دیا گیا ہے۔
وانگچک نے لداخ سے دہلی تک ایک طویل مارچ کی قیادت کی تھی، جس کا مقصد خطے کے لیے آئینی تحفظات کا مطالبہ کرنا تھا۔ منگل کی رات بھوک ہڑتال کے دوران طبیعت بگڑنے پر انہیں ہسپتال منتقل کیا گیا۔ گیتا نجلی کا دعویٰ ہے کہ ہسپتال میں موجود بھاری سکیورٹی کا مقصد طبی علاج نہیں بلکہ انہیں خاموش کرانا ہے۔
بدھ کی صبح میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے گیتا نجلی نے کہا، "ہسپتال کے اندر 100 سے زائد پولیس اہلکار تعینات ہیں۔ انہیں کسی سے ملنے نہیں دیا جا رہا۔ یہ طبی دیکھ بھال نہیں، بلکہ ہسپتال کے بستر کو جیل بنا دیا گیا ہے۔”
یہ کشیدگی اس وقت شروع ہوئی جب وانگچک اور ان کے ساتھیوں کو 30 ستمبر کو دہلی کی سرحد پر حراست میں لیا گیا۔ وہ دارالحکومت پہنچ کر لداخ کو آئین کے چھٹے شیڈول میں شامل کرنے کا مطالبہ کرنا چاہتے تھے، جس کے بارے میں ان کا موقف ہے کہ یہ ہمالیائی ماحولیات اور مقامی ثقافت کے تحفظ کے لیے ناگزیر ہے۔
دہلی پولیس نے بدسلوکی کے الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔ ایک اعلیٰ افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ سکیورٹی اہلکاروں کی موجودگی معمول کا پروٹوکول ہے جس کا مقصد عوامی نظم و ضبط برقرار رکھنا اور زیرِ علاج کارکن کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔
اس افسر نے مزید کہا، "انہیں ضروری طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔” تاہم انہوں نے ملاقاتیوں پر عائد پابندیوں کے بارے میں کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
اس اقدام پر سیاسی رہنماؤں اور ماحولیاتی گروپوں کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ حکومت لداخ سے اٹھنے والی آواز کو دبانے کے لیے انتظامی طاقت کا بے جا استعمال کر رہی ہے۔ ریمن میگسے سے ایوارڈ یافتہ سونم وانگچک کے لیے یہ تعطل مقامی خودمختاری اور مرکزی اختیار کے درمیان جاری طویل کشمکش کا تسلسل ہے۔
بدھ کی سہ پہر تک ہسپتال کے احاطے میں سکیورٹی کا پہرہ سخت رہا۔ سونم وانگچک کی ڈسچارج کے بارے میں کوئی واضح ٹائم لائن نہیں دی گئی، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت لداخ کی تحریک سے نمٹنے کے لیے کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہے۔
سونم وانگچک اس وقت ہسپتال کے اندر ہیں، جہاں ان کا بیرونی دنیا سے رابطہ عملاً منقطع کر دیا گیا ہے۔
