شنگھائی — دنیا بھر کی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں اب ایسے جدید ترین ‘اے آئی ایجنٹ’ اسمارٹ فونز مارکیٹ میں لانے کی دوڑ میں شامل ہو گئی ہیں جو صرف ایک سادہ صوتی کمانڈ (آواز کی ہدایت) پر کھانے کا آرڈر دینے، مختلف ایپس پر قیمتوں کا موازنہ کرنے اور خودکار پیغامات لکھنے جیسے تمام کام خود سرانجام دے سکیں گے۔ شنگھائی میں منعقدہ ورلڈ آرٹیفیشل انٹیلیجنس کانفرنس کے دوران کم از کم تین بڑی کمپنیوں نے ان ایجنٹ اسمارٹ فونز کا مظاہرہ کیا ہے۔ چینی کمپنی ‘نوبیا’ نے ٹک ٹاک کی بانی کمپنی بائٹ ڈانس کے تیار کردہ مقبول ترین چیٹ بوٹ ‘ڈوباؤ’ سے لیس اپنا نیا فون NaviX Ultra متعارف کرایا ہے۔ دوسری طرف، ‘آنر’ کمپنی نے ایک انوکھا ‘روبوٹ فون’ پیش کیا ہے جس کا کیمرہ ایک چھوٹی روبوٹک بازو کے ذریعے اوپر نیچے ہو سکتا ہے، جبکہ شنگھائی کے اسٹارٹ اپ اسٹیپ فن نے علی پے اور ڈی ڈی جیسی بڑی ایپس کے اشتراک سے اپنا STEPX Neo فون متعارف کرایا ہے۔
اگرچہ یہ ٹیکنالوجی موبائل کی دنیا میں ایک بڑا انقلاب ہے، لیکن اس کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بڑی موبائل ایپلی کیشنز (ایپس) کے مالکان بن رہے ہیں۔ مارکیٹ تجزیہ کاروں کے مطابق، جب بائٹ ڈانس نے ابتدائی پروٹوٹائپ جاری کیا تو علی بابا، ٹین سینٹ اور جے ڈی ڈاٹ کام جیسی بڑی کمپنیوں نے اس اے آئی اسسٹنٹ کی اپنے پلیٹ فارمز تک رسائی بلاک کر دی، کیونکہ وہ اپنے صارفین کا کنٹرول کسی دوسری پارٹی کے ہاتھ میں نہیں دینا چاہتیں۔ اس رکاوٹ کے بعد اب نئی ٹیک کمپنیاں ایپس میں زبردستی گھسنے کے بجائے ان کے ساتھ باقاعدہ کاروباری شراکت داری قائم کر رہی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس وقت گوگل سمیت دنیا بھر کی کمپنیاں اسمارٹ فونز کو مکمل آرٹیفیشل انٹیلیجنس پر منتقل کرنے میں مصروف ہیں، اور اگلے 5 سے 10 سالوں میں موبائل ایپس کا روایتی استعمال مکمل طور پر ختم ہو جائے گا، جو ڈیجیٹل معیشت اور کاروباری ماڈلز کو جڑ سے بدل کر رکھ دے گا۔
