لوسیل اسٹیڈیم میں آخری وسل بجتے ہی ارجنٹائن کے عالمی کپ جیتنے کے خواب دم توڑ گئے۔ اسپین نے ایک انتہائی متوازن اور تکنیکی کھیل پیش کرتے ہوئے ارجنٹائن کو 0-1 سے شکست دے کر دوسری بار عالمی چیمپئن ہونے کا اعزاز حاصل کر لیا۔ میچ کا واحد فیصلہ کن گول 68 ویں منٹ میں ڈینی اولمو نے اسکور کیا۔
ارجنٹائن کی ٹیم جذباتی اور جارحانہ انداز کے ساتھ میدان میں اتری تھی، لیکن اسپین کے مڈفیلڈرز پیڈری اور گاوی نے گیند پر کنٹرول برقرار رکھ کر کھیل کی رفتار کو اپنی مرضی کے مطابق ڈھال لیا۔ پہلے ہاف کے بیشتر حصے میں لیونل میسی گیند کے حصول کے لیے اپنی ہاف لائن تک واپس آنے پر مجبور نظر آئے۔
میچ کا فیصلہ دوسرے ہاف کے وسط میں ہوا۔ ارجنٹائن کی دفاعی لائن میں معمولی سی غفلت اسپین کے لیے موقع بن گئی۔ ایک تیز جوابی حملے میں ڈینی اولمو نے موقع ملتے ہی ارجنٹائن کے گول کیپر ایمیلیانو مارٹینز کو چکمہ دے کر گیند جال میں پہنچا دی۔ یہ کسی انفرادی کرشمے کا نتیجہ نہیں تھا، بلکہ اسپین کی منظم حکمت عملی کا منطقی انجام تھا۔
ٹرافی کی تقریب کے بعد اسپین کے کوچ لوئس ڈی لا فوینتے نے کہا، "ہم جانتے تھے کہ وہ جادوئی لمحات کے منتظر ہیں۔ ہم نے صرف انہیں وہ جگہ دینے سے انکار کیا جہاں سے وہ یہ لمحات تخلیق کر سکتے تھے۔”
وقت گزرنے کے ساتھ ارجنٹائن کی بے چینی بڑھتی گئی۔ 85 ویں منٹ میں میسی نے دو کھلاڑیوں کو ڈرائبل کر کے آگے بڑھنے کی کوشش کی، مگر اسپین کی دفاعی دیوار نے ان کا راستہ روک لیا۔ پوری رات یہی منظر دیکھنے میں آیا؛ جب بھی ارجنٹائن نے خطرہ پیدا کرنے کی کوشش کی، ہسپانوی کھلاڑیوں کی ترتیب برقرار رہی۔
یہ شکست ارجنٹائن کے لیے ایک تلخ حقیقت ہے، جس نے پورے ٹورنامنٹ میں شاندار کارکردگی دکھائی تھی۔ لیونل میسی کے لیے یہ نتیجہ ایک بڑا دھچکا ہے، کیونکہ یہ ان کے کیریئر کا شاید آخری موقع تھا جس میں وہ اپنے کلیکشن میں موجود واحد خالی جگہ کو پُر کر سکتے تھے۔
جب ہسپانوی کھلاڑی میدان میں جشن منا رہے تھے، ارجنٹائن کی ٹیم خاموش کھڑی زمین کو تک رہی تھی۔ یہ شکست اس لیے نہیں تھی کہ انہوں نے برا کھیلا، بلکہ اس لیے تھی کہ ان کا مقابلہ ایسی ٹیم سے تھا جس نے انہیں اپنے کھیل کا انداز اپنانے کا موقع ہی نہیں دیا۔ اسپین قطر سے ٹورنامنٹ کی سب سے پرجوش نہیں، بلکہ سب سے زیادہ کارگر ٹیم کے طور پر رخصت ہو رہا ہے۔
