کراچی کے علاقے قائد آباد میں نوجوان کلثوم کے قتل کی گتھی سلجھ گئی ہے۔ پولیس نے تصدیق کی ہے کہ قتل کا منصوبہ مقتولہ کی اپنی خالہ نے تیار کیا تھا، جس کا مقصد گھریلو تنازع کا بدلہ لینا تھا۔
ایس ایس پی ملیر کے مطابق، تفتیش کے دوران مرکزی ملزمہ نے اپنے جرم کا اعتراف کر لیا ہے۔ ابتدائی تحقیقات سے پتا چلا ہے کہ ملزمہ گھر میں کلثوم کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ سے نالاں تھی اور اسے اپنے لیے خطرہ سمجھتی تھی۔
یہ واقعہ رواں ہفتے پیش آیا، جسے پہلے ایک پراسرار حادثہ قرار دینے کی کوشش کی گئی تھی۔ تاہم، جائے وقوعہ سے ملنے والے شواہد اور ملزمہ کے بیانات میں تضاد نے پولیس کو اس کی طرف متوجہ کیا۔
ایک تفتیشی افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ یہ کوئی جذباتی ردعمل نہیں تھا بلکہ ایک سوچی سمجھی سازش تھی۔ ملزمہ نے کلثوم کو تنہا پا کر موقع کا فائدہ اٹھایا اور پھر جائے وقوعہ کو ایک حادثے کا رنگ دینے کی کوشش کی۔
کلثوم کے لواحقین اس انکشاف کے بعد شدید صدمے میں ہیں۔ پڑوسیوں کا کہنا ہے کہ گھر میں تناؤ تو تھا، مگر کسی کو گمان نہ تھا کہ بات قتل تک پہنچ جائے گی۔
پولیس نے قتل میں استعمال ہونے والا آلہِ قتل برآمد کر لیا ہے۔ ملزمہ کے موبائل فون کا ڈیٹا بھی حاصل کیا گیا ہے، جس سے تفتیش کاروں کو توقع ہے کہ اس گھناؤنے منصوبے میں ملوث دیگر کرداروں کے نام بھی سامنے آئیں گے۔
ملزمہ فی الحال پولیس کی حراست میں ہے۔ کل اسے جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کیا جائے گا، جہاں پراسیکیوشن چالان کو حتمی شکل دینے کے لیے جسمانی ریمانڈ میں توسیع کی استدعا کرے گی۔
قائد آباد کے رہائشیوں کے لیے یہ گرفتاری کسی سکون کا باعث نہیں بنی۔ اس کیس نے ایک بار پھر ان گھریلو تشدد کے واقعات پر سوال اٹھا دیے ہیں جہاں قاتل کوئی اجنبی نہیں، بلکہ گھر کا اپنا ہی فرد ہوتا ہے۔
