پاکستان کے مریضوں کو اب پیچیدہ طبی علاج کے لیے بیرونِ ملک جانے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ حکومت نے ایک نئے پروگرام کا آغاز کیا ہے جس کے تحت بین الاقوامی سطح کے ماہر ڈاکٹرز اور سرجنز پاکستان آئیں گے اور مقامی ہسپتالوں میں مریضوں کا علاج کریں گے۔ وزارتِ صحت نے اس منصوبے کی باضابطہ تصدیق کر دی ہے۔
اس اقدام کا بنیادی مقصد طبی سیاحت پر اٹھنے والے خطیر اخراجات کو روکنا ہے۔ اب تک نایاب بیماریوں اور پیچیدہ سرجری کے لیے مریضوں کو کروڑوں روپے خرچ کر کے بیرونِ ملک جانا پڑتا تھا۔ اب حکومت ان ماہرین کو پاکستان لا رہی ہے تاکہ مریضوں کو اپنے ہی ملک میں عالمی معیار کی سہولیات میسر آ سکیں۔
وزارتِ صحت کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے بدھ کے روز صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، "ہم ڈاکٹروں کو صرف ایک دورے کے لیے نہیں بلا رہے۔ ہم ایک باقاعدہ روٹیشن سسٹم بنا رہے ہیں جہاں عالمی ماہرین ہمارے مقامی سرجنز کے ساتھ مل کر کام کریں گے۔ یہ اقدام مریضوں کے علاج کے ساتھ ساتھ جدید طبی مہارتوں کی منتقلی کا بھی ذریعہ بنے گا۔”
منصوبے کا پہلا مرحلہ اسلام آباد اور لاہور سے شروع ہو رہا ہے، جس میں ابتدائی طور پر بچوں کے امراضِ قلب (پیڈیاٹرک کارڈیالوجی) اور نیورو سرجری پر توجہ دی جائے گی۔ وزارتِ صحت کے اعداد و شمار کے مطابق، بیرونِ ملک علاج کروانے والے مریضوں کی سب سے بڑی تعداد انہی دو شعبوں سے تعلق رکھتی ہے، جس کے لیے خاندان اکثر اپنی جمع پونجی لٹا دیتے ہیں۔
تاہم، اس منصوبے کے سامنے عملی مشکلات بھی ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ مقامی ہسپتالوں میں موجود آلات اور سہولیات اتنی جدید نہیں کہ وہ بین الاقوامی معیار کی سرجری کو سپورٹ کر سکیں۔ اس پر وزارت کا مؤقف ہے کہ پروگرام کے بجٹ میں آپریٹنگ تھیٹرز اور تشخیصی آلات کو عالمی معیار کے مطابق اپ گریڈ کرنا بھی شامل ہے۔
ایک عام مریض کے لیے یہ تبدیلی کسی بڑی ریلیف سے کم نہیں۔ اس وقت متحدہ عرب امارات یا ترکی میں پیچیدہ سرجری پر 20 ہزار ڈالر سے زائد کا خرچ آتا ہے۔ نئی حکمتِ عملی کے تحت حکومت ان اخراجات کا بڑا حصہ برداشت کرے گی، اگرچہ مستحق مریضوں کے انتخاب کے لیے اہلیت کا معیار ابھی زیرِ غور ہے۔
وزارتِ صحت کو توقع ہے کہ عالمی ماہرین کی پہلی کھیپ اگلے ماہ کے وسط تک پاکستان پہنچ جائے گی، جبکہ مکمل پروگرام کا آغاز آئندہ سال کی پہلی سہ ماہی میں متوقع ہے۔ اب اصل امتحان یہ ہے کہ کیا سرکاری ہسپتالوں کا انفراسٹرکچر مریضوں کے اس ممکنہ رش کو سنبھال پائے گا یا نہیں۔
