حماس نے یحییٰ سنوار کی ہلاکت کے بعد خلیل الحیہ کو گروپ کا نیا سیاسی سربراہ نامزد کر دیا ہے۔ طویل عرصے تک نائب رہنے والے اور تجربہ کار مذاکرات کار اب دوحہ، قطر سے تنظیم کے امور چلائیں گے۔
یہ تقرری اس بات کی غماز ہے کہ حماس کی قیادت کا مرکز اب غزہ کے عسکری ونگ سے منتقل ہو کر بیرونی دفاتر کی طرف آ رہا ہے۔ جہاں یحییٰ سنوار غزہ میں موجود عسکری قوت کی علامت تھے، وہیں خلیل الحیہ ایک سفارت کار کے طور پر جانے جاتے ہیں، جنہوں نے برسوں تک مصر اور قطر کی ثالثی میں اسرائیل کے ساتھ بالواسطہ مذاکرات کی قیادت کی ہے۔
یہ تبدیلی حکمت عملی میں ایک نیا موڑ ہے۔ الحیہ کی پہچان میدانِ جنگ کے کمانڈر کے بجائے سیاسی جوڑ توڑ کے ماہر کی ہے۔ وہ گزشتہ کئی ماہ سے قاہرہ اور دوحہ میں جنگ بندی کے مذاکرات میں حماس کی ٹیم کی سربراہی کر رہے ہیں۔ اس تقرری سے حماس یہ پیغام دے رہی ہے کہ وہ بیرونی دنیا کے ساتھ مواصلات کو مستحکم کرنا چاہتی ہے، اگرچہ غزہ کی صورتحال بدستور کشیدہ ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس تقرری سے جنگ کے حوالے سے گروپ کے بنیادی موقف میں تبدیلی کا امکان کم ہے۔ الحیہ ایک سخت گیر رہنما تصور کیے جاتے ہیں۔ وہ مسلسل حماس کے بنیادی مطالبات پر قائم رہے ہیں: غزہ سے اسرائیلی فوج کا مکمل انخلاء اور قید فلسطینیوں کی رہائی۔
گزشتہ اکتوبر میں رفح میں اسرائیلی فورسز کے ساتھ جھڑپ میں یحییٰ سنوار کی ہلاکت کے بعد پیدا ہونے والے خلا کو پر کرنا حماس کے لیے ایک چیلنج تھا۔ قیادت کے بحران کے خدشات کے باوجود، الحیہ کا فوری انتخاب تنظیم کی اندرونی یکجہتی کو ظاہر کرتا ہے۔
دوحہ اور قاہرہ میں موجود ثالثوں کے لیے الحیہ کوئی نیا نام نہیں ہے۔ وہ برسوں سے ان کے ساتھ میز پر بیٹھتے رہے ہیں۔ یہ واقفیت مذاکرات میں تعطل توڑنے میں کتنی مددگار ثابت ہوتی ہے، یہ ابھی واضح نہیں۔
الحیہ کی قیادت کا آغاز ایک ایسی تنظیم کے ساتھ ہوا ہے جس کا عسکری ڈھانچہ شدید دباؤ میں ہے اور غزہ کی آبادی جنگ کی تباہ کاریوں سے نڈھال ہے۔ انہیں ایک ایسی تنظیم ملی ہے جس کی آپریشنل صلاحیتیں گزشتہ ایک سال کے دوران بری طرح متاثر ہوئی ہیں۔
ان کا پہلا امتحان یہ ہوگا کہ کیا وہ اپنے سفارتی تجربے کو بروئے کار لا کر کوئی ایسا سمجھوتہ کروا سکتے ہیں جو غزہ کے لیے ریلیف کا باعث بنے، جبکہ اس دوران ان کے پاس موجود یرغمالیوں کا کارڈ بھی ان کی میز پر موجود ہے۔
