اسلام آباد — ایران کے وزیر داخلہ اسکندر مومنی پیر کے روز اسلام آباد پہنچ گئے۔ اس دورے کا بنیادی مقصد پاک ایران سرحد پر سکیورٹی کو مزید سخت کرنا اور عسکریت پسندی کے بڑھتے ہوئے خطرات سے نمٹنے کے لیے لائحہ عمل طے کرنا ہے۔
وزارت داخلہ کے مطابق، اسکندر مومنی کا یہ دورہ ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب دونوں ممالک اپنی مشترکہ سرحد پر سرحد پار سے ہونے والی کارروائیوں کو روکنے میں مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ نو سو کلومیٹر طویل یہ سرحد طویل عرصے سے سمگلنگ اور عسکریت پسندوں کی نقل و حرکت کے لیے ایک غیر محفوظ راستہ بنی ہوئی ہے۔
مومنی کا شیڈول مصروف ہے۔ وہ اپنے پاکستانی ہم منصب محسن نقوی اور اعلیٰ عسکری قیادت سے ملاقاتیں کریں گے۔ ان ملاقاتوں کا محور محض سفارتی رسمی کارروائی نہیں، بلکہ خفیہ معلومات کا تبادلہ ہے۔ اسلام آباد اور تہران دونوں پر اپنے اندرونی سکیورٹی حالات کو بہتر بنانے کے لیے دباؤ ہے، اور حکام کا ماننا ہے کہ موجودہ سکیورٹی ڈھانچہ بدلتے ہوئے خطرات کے سامنے ناکافی ثابت ہو رہا ہے۔
یہ دورہ اس لحاظ سے اہم ہے کہ حالیہ مہینوں میں پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں تشدد کے واقعات میں اضافہ دیکھا گیا ہے، جبکہ تہران بھی بارہا ان خدشات کا اظہار کر چکا ہے کہ عسکریت پسند گروہ سرحدی علاقوں کو ایران کے اندر حملوں کے لیے استعمال کرتے ہیں۔
اسلام آباد میں موجود ایک سکیورٹی تجزیہ کار کا کہنا ہے، "سرحد کا تحفظ دونوں ممالک کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ تاہم، جب تک انٹیلی جنس کے تبادلے کا کوئی حقیقی اور فوری نظام نہیں بنتا، ایسے اعلیٰ سطحی دورے محض سفارتی کارروائی تک محدود رہیں گے۔”
وزارت داخلہ کے ذرائع نے اشارہ دیا ہے کہ بات چیت روایتی سفارتی پروٹوکول سے آگے بڑھے گی۔ توقع ہے کہ قیدیوں کی واپسی، سرحدی باڑ کی تکمیل اور دشوار گزار علاقوں میں سرگرم منظم جرائم پیشہ گروہوں کے خلاف کارروائی پر بات ہوگی۔
مومنی کے وفد میں پولیس اور بارڈر سکیورٹی کے اعلیٰ حکام بھی شامل ہیں، جو اس بات کا اشارہ ہے کہ ایرانی سائیڈ محض پالیسی بیانات کے بجائے عملی نتائج کی متلاشی ہے۔
اب یہ دیکھنا باقی ہے کہ یہ دورہ سرحدی انتظام میں کوئی ٹھوس تبدیلی لاتا ہے یا بات صرف مشترکہ اعلامیے تک محدود رہتی ہے۔ فی الحال اسلام آباد میں سب کی نظریں اس بات پر ہیں کہ آیا دونوں ممالک تعاون کے دعووں اور زمینی حقائق کے درمیان موجود خلیج کو پاٹنے میں کامیاب ہو پائیں گے یا نہیں۔
