بہاولنگر میں 12 ملزمان کی جانب سے اجتماعی زیادتی کا نشانہ بننے والی 19 سالہ لڑکی اسپتال میں دم توڑ گئی۔ ایک ہفتے تک زندگی اور موت کی کشمکش میں رہنے والی متاثرہ لڑکی کی ہلاکت کے بعد علاقے میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔
پولیس نے بدھ کی صبح ہلاکت کی تصدیق کی۔ ڈاکٹروں کے مطابق لڑکی کو شدید اندرونی چوٹیں آئی تھیں جنہیں طبی امداد کے باوجود سنبھالا نہ جا سکا۔ اس افسوسناک موت کے بعد اب یہ مقدمہ اقدامِ قتل سے بڑھ کر قتل کی دفعات میں تبدیل ہو چکا ہے۔
واقعہ بہاولنگر کے نواحی گاؤں میں پیش آیا۔ ابتدائی ایف آئی آر کے مطابق متاثرہ لڑکی شادی کی تقریب سے واپس آ رہی تھی جب اسے اغوا کیا گیا۔ ملزمان نے اسے کئی گھنٹے تک قید میں رکھا اور وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا، جس کے بعد اسے نیم مردہ حالت میں گھر کے قریب پھینک دیا۔
تفتیش سے وابستہ ایک سینئر پولیس افسر نے بتایا کہ "متاثرہ لڑکی کے ہوش میں آنے پر دیے گئے ابتدائی بیان کی روشنی میں اہم ملزمان کی شناخت کر لی گئی ہے۔ چھ ملزمان پولیس کی حراست میں ہیں، جبکہ باقی چھ کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔”
اس واقعے میں ملوث ملزمان کی بڑی تعداد نے مقامی آبادی کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ گزشتہ روز ضلعی ہیڈکوارٹر اسپتال کے باہر شہریوں نے شدید احتجاج کیا اور مطالبہ کیا کہ ملزمان کو فوری کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے۔ مظاہرین کو خدشہ ہے کہ مقامی بااثر شخصیات کیس کو دبانے کی کوشش کر سکتی ہیں۔
قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ زیادتی کے بعد متاثرہ لڑکی کی موت کے بعد مقدمے کی نوعیت مکمل طور پر بدل گئی ہے۔ تعزیراتِ پاکستان کے تحت اب ملزمان کو سزائے موت تک کا سامنا ہو سکتا ہے۔ پراسیکیوشن نے اعلان کیا ہے کہ جرم کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے وہ عدالت سے سخت ترین سزا کی استدعا کریں گے۔
متاثرہ لڑکی کے والد نے سرد خانے کے باہر میڈیا سے مختصر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ کسی بھی قسم کے دباؤ یا تصفیے کو قبول نہیں کریں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ "وہ اپنی زندگی میں انصاف مانگتی رہی، اب ہم اس کے مرنے کے بعد اسے انصاف دلوا کر رہیں گے۔”
پولیس نے امن و امان برقرار رکھنے کے لیے گاؤں میں نفری بڑھا دی ہے۔ کیس کی اگلی سماعت رواں ہفتے متوقع ہے، جس میں پراسیکیوشن عدالت کے سامنے تازہ ترین میڈیکل رپورٹس پیش کرے گی۔
