کراچی کے علاقے گلشنِ اقبال کے مکین گزشتہ کئی ہفتوں سے ایک سنگین صورتحال سے دوچار ہیں۔ گھروں کے نلکوں سے آنے والا پانی نہ صرف رنگت میں گدلا اور بدبودار ہے، بلکہ اس کا استعمال گھرانوں کے لیے ایک بڑا طبی خطرہ بن چکا ہے۔ علاقے کے کئی بلاکس میں رہائشیوں نے شکایت کی ہے کہ پانی سے اٹھنے والی تعفن زدہ بو نے اسے پینے اور کھانا پکانے کے قابل نہیں چھوڑا۔
اس بحران کی بنیادی وجہ برسوں پرانی اور خستہ حال پائپ لائنیں ہیں۔ یہ لائنیں سیوریج کے گٹروں کے بالکل ساتھ سے گزر رہی ہیں، جہاں سے سیوریج کا آلودہ پانی پینے کے صاف پانی کی فراہمی کے نظام میں شامل ہو رہا ہے۔ جب پانی کی سپلائی کا پریشر کم ہوتا ہے، تو یہ پائپ لائنیں اردگرد کی گندگی اور بیکٹیریا کو کھینچ لیتی ہیں، جو براہِ راست شہریوں کے کچن تک پہنچ جاتے ہیں۔
بلاکس 13-ڈی کے رہائشی اسلم خان کا کہنا ہے، "ہم نے نلکے کا پانی پینا تو دور، اس سے نہانا بھی چھوڑ دیا ہے، جس سے جلد کے امراض تیزی سے پھیل رہے ہیں۔” انہوں نے مزید کہا کہ واٹر بورڈ کے پاس کئی بار شکایات درج کرائی جا چکی ہیں، مگر حکام ٹس سے مس نہیں ہوتے۔ "وہ ہمیں ٹینکر منگوانے کا مشورہ دیتے ہیں، حالانکہ ہم بل باقاعدگی سے ادا کر رہے ہیں۔”
یہ صورتحال اب معاشی بوجھ بھی بن چکی ہے۔ میونسپل پانی پر انحصار نہ ہونے کے باعث رہائشی نجی واٹر ٹینکر مافیا کے رحم و کرم پر ہیں، جنہوں نے طلب بڑھنے کے ساتھ ہی ریٹس میں بھی اضافہ کر دیا ہے۔ درمیانے طبقے کے گھرانوں کے لیے پانی کی یہ اضافی خریداری اب ناقابلِ برداشت ہو چکی ہے۔
مقامی سماجی کارکنوں کے مطابق، یہ کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن کی ناقص مینٹیننس اور غفلت کا نتیجہ ہے۔ شہر میں پانی کی قلت پہلے ہی ایک بڑا مسئلہ ہے، لیکن جو پانی فراہم کیا جا رہا ہے، اس کے معیار کو برقرار رکھنے میں حکام مکمل طور پر ناکام نظر آتے ہیں۔ ماہرینِ صحت خبردار کر چکے ہیں کہ یہ آلودہ پانی ٹائیفائیڈ، ہیضہ اور ہیپاٹائٹس جیسی بیماریوں کے پھیلاؤ کا باعث بن سکتا ہے۔
کی جانب سے تاحال متاثرہ بلاکس میں پائپ لائنوں کی تبدیلی یا صفائی کے حوالے سے کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا۔ جب تک بنیادی ڈھانچے کی مرمت نہیں کی جاتی، گلشنِ اقبال کے مکین یا تو اپنی جیب خالی کر کے نجی ٹینکر خریدنے پر مجبور رہیں گے یا پھر آلودہ پانی پی کر اپنی صحت داؤ پر لگانے پر۔
علاقہ مکینوں کے لیے اب نلکے سے آنے والا یہ پانی سہولت نہیں، بلکہ ایک کھلا خطرہ بن چکا ہے۔
