نیویارک — عالمی فوجداری عدالت اپنے وجود کے سب سے بڑے بحران سے گزر رہی ہے جہاں جمعہ کے روز عدالت کے 125 رکن ممالک اس بات پر خفیہ رائے شماری کریں گے کہ آیا چیف پراسیکیوٹر کریم خان کو جنسی بدسلوکی کے الزامات کے تحت عہدے سے برطرف کیا جائے یا نہیں۔ نیویارک میں اقوامِ متحدہ کے ہیڈ کوارٹر میں ہونے والی اس رائے شماری میں کریم خان کو ہٹانے کے لیے کم از کم 63 ممالک کی حمایت کی ضرورت ہوگی۔ یہ ووٹنگ ایک ایسے نازک موڑ پر ہو رہی ہے جب امریکہ نے عدالت کو ملکی خودمختاری کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے اسے سفارتی سطح پر غیر فعال کرنے کی مہم تیز کر دی ہے۔ واشنگٹن پہلے ہی عدالت کے 11 اعلیٰ حکام پر پابندیاں لگا چکا ہے اور اب دیگر ممالک پر بھی عدالت سے الگ ہونے کے لیے دباؤ ڈالنے پر غور کر رہا ہے۔
56 سالہ کریم خان نے اپنے اوپر لگنے والے تمام الزامات کی سختی سے تردید کی ہے اور ان کے وکلاء کا کہنا ہے کہ اقوامِ متحدہ کی تحقیقاتی رپورٹ کے بعد خود مختار ججز کے ایک پینل کو کریم خان کے خلاف کوئی ٹھوس ثبوت نہیں ملا تھا۔ دوسری جانب، الزام لگانے والی خاتون ملازمہ نے ایک حالیہ انٹرویو میں کہا کہ عہدے اور طاقت کے اتنے بڑے فرق کے ہوتے ہوئے اس تعلق کو کسی صورت رضامندی کا نام نہیں دیا جا سکتا۔ مبصرین کے مطابق، اس ووٹنگ کا نتیجہ جو بھی نکلے، عالمی عدالت کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچ چکا ہے۔ اگر کریم خان کو برطرف کیا جاتا ہے، تو اسے غزہ میں مبینہ جنگی جرائم پر اسرائیلی حکام کے خلاف وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کی پاداش میں سیاسی دباؤ کا نتیجہ سمجھا جائے گا، اور اگر وہ عہدے پر برقرار رہتے ہیں، تو ان کی پوزیشن انتہائی کمزور ہو جائے گی جس سے عدالت کے مخالفین کو اس پر تنقید کا مزید موقع مل جائے گا۔
