کراچی، 7 اگست 2026: سندھ محکمہ صحت نے کاروباری شخصیت میر رضا علی کی قبر کشائی کے لیے تشکیل دیا گیا اصل میڈیکل بورڈ بحال کردیا ہے اور اس حوالے سے باضابطہ نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا گیا ہے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق میڈیکل بورڈ میں پیتھالوجسٹس، فرانزک ماہرین، میڈیکو لیگل افسران اور پولیس سرجن کے دفتر کے نمائندے شامل ہیں۔
فرانزک ماہر ڈاکٹر فرح وسیم اور پیتھالوجسٹ پروفیسر ڈاکٹر نسیم احمد کو بورڈ کا حصہ بنایا گیا ہے، جبکہ سی پی ایل سی کے فرانزک شناختی ماہر امیر حسن بھی میڈیکل بورڈ میں شامل ہیں۔
ایڈیشنل پولیس سرجن ڈاکٹر سری چند، ڈاکٹر کامران خان اور ڈاکٹر دانیال مرزا بھی بورڈ کے ارکان میں شامل ہیں۔ ڈاکٹر محمد یاسین اور ڈاکٹر سمیعہ سید کو بھی میڈیکل بورڈ میں شامل کیا گیا ہے۔
محکمہ صحت سندھ کے مطابق قبر کشائی کے دوران ضرورت پڑنے پر مزید ماہرین کو بھی میڈیکل بورڈ میں شامل کیا جاسکتا ہے۔
اصل میڈیکل بورڈ کی بحالی ایسے وقت میں ہوئی ہے جب حکام میر رضا علی کیس میں قبر کشائی کا عمل دوبارہ شروع کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ بورڈ ان کی باقیات کا معائنہ کرے گا تاکہ موت کے حالات سے متعلق تحقیقات میں مدد مل سکے۔
اس سے قبل جوڈیشل مجسٹریٹ نے میر رضا علی کی قبر کشائی اور نئے پوسٹ مارٹم کا عمل 10 اگست تک روک دیا تھا۔ یہ حکم ان کے والدین کی جانب سے نئے تشکیل دیے گئے پانچ رکنی میڈیکل بورڈ پر اعتراض کے بعد جاری کیا گیا۔
جوڈیشل مجسٹریٹ ایسٹ حمید اللہ نے یہ حکم میر رضا علی کے والد میر حسین علی کی درخواست پر جاری کیا، جس میں نئے میڈیکل بورڈ کی تشکیل کو چیلنج کیا گیا تھا۔
میر حسین علی کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ خاندان نئے تشکیل دیے گئے بورڈ کی نگرانی میں قبر کشائی کی اجازت نہیں دے گا۔
وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ حکومت نے میڈیکل بورڈ کی تشکیل سے متعلق متعدد نوٹیفکیشن جاری کیے، جن میں تیسرا نوٹیفکیشن بھی شامل تھا، جسے خاندان نے مسترد کردیا۔
وکیل نے عدالت میں کہا، "نیا میڈیکل بورڈ کسی صورت قابل قبول نہیں ہے۔” انہوں نے مزید بتایا کہ متوفی کے والدین پہلے ہی تفتیشی افسر کے سامنے اپنے بیانات ریکارڈ کراچکے ہیں۔
