ڈونلڈ ٹرمپ کی صدارت میں واپسی ان کے وسیع و عریض کاروباری نیٹ ورک کو ایک بار پھر امریکی حکومتی ایوانوں کے مرکز میں لے آئی ہے۔ اگلے چار برسوں کے لیے اوول آفس اور ٹرمپ آرگنائزیشن کے درمیان حد فاصل پہلے سے کہیں زیادہ دھندلی ہو چکی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا صدر ملکی پالیسیوں کو ترجیح دیں گے یا اپنے ذاتی مالیاتی کھاتوں کو؟
ٹرمپ نے اپنے اثاثوں سے مکمل دستبرداری کے مطالبات کو مسترد کرتے ہوئے انہیں اپنے بیٹوں کے زیر انتظام ایک ٹرسٹ کے سپرد کر رکھا ہے۔ یہ انتظام تکنیکی طور پر انہیں روزمرہ کے کاروباری فیصلوں سے الگ تو کرتا ہے، لیکن منافع کی ترسیل کو نہیں روکتا۔ غیر ملکی سفارت کاروں، لابیسٹس اور کارپوریٹ ایگزیکٹوز کے لیے اب اثر و رسوخ کا راستہ واضح ہے: ٹرمپ انٹرنیشنل ہوٹل میں قیام یا ان کے فلوریڈا کلبوں میں تقریبات کا انعقاد۔
ناقدین اس "امولومینٹس” کے مسئلے کی طرف اشارہ کرتے ہیں جو ٹرمپ کی پہلی مدتِ صدارت کے دوران بھی سرخیوں میں رہا۔ امریکی آئین وفاقی عہدیداروں کو کانگریس کی اجازت کے بغیر غیر ملکی ریاستوں سے تحائف یا رقوم وصول کرنے سے روکتا ہے۔ پچھلی بار ٹرمپ آرگنائزیشن نے موقف اختیار کیا تھا کہ تجارتی لین دین—جیسے کسی سفارت کار کا ہوٹل کا بل ادا کرنا—اس پابندی کے زمرے میں نہیں آتا۔ عدالتوں نے اس پر کوئی حتمی فیصلہ نہیں دیا، جس کے باعث قانونی ابہام اب بھی برقرار ہے۔
پھر ٹرمپ کے ذاتی قرضوں کا معاملہ ہے۔ ان کے مالیاتی معاملات ہمیشہ سے جائیدادوں اور بھاری واجبات کا مرکب رہے ہیں۔ ان میں سے کچھ قرضے ایسے مالیاتی اداروں کے پاس ہیں جن کے معاملات وفاقی ریگولیٹرز کے پاس زیر التوا ہوتے ہیں۔ جب صدر کی ذاتی دولت کا دارومدار شرح سود اور ٹیکس پالیسیوں پر ہو، تو ان کے ہر دستخط سے ذاتی فائدہ یا نقصان کا امکان موجود رہتا ہے۔
بیرونِ ملک ٹرمپ کے کاروباری شراکت دار حالات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ جہاں ٹرمپ کے ترقیاتی منصوبے چل رہے ہیں، وہاں کے مقامی حکمران بخوبی جانتے ہیں کہ صدر کی سیاسی حمایت کسی بھی رئیل اسٹیٹ پرمٹ سے زیادہ قیمتی ہو سکتی ہے۔ یہ ایک ایسا دباؤ ہے جس کا سامنا ماضی کے کسی امریکی صدر کو نہیں کرنا پڑا۔ مشرقِ وسطیٰ میں لائسنسنگ کا معاہدہ ہو یا یورپ میں گالف کورس، خارجہ پالیسی کے فیصلوں کو کاروباری مفادات سے جوڑنے کا خطرہ مسلسل موجود ہے۔
ٹرمپ کے حامیوں کا استدلال ہے کہ ان کی کاروباری مہارت ہی ملک کی ضرورت ہے۔ ان کے نزدیک ٹرمپ کی دولت مفادات کا ٹکراؤ نہیں بلکہ ایک ڈھال ہے؛ ان کا ماننا ہے کہ جو شخص پہلے سے ارب پتی ہو، اسے خریدا نہیں جا سکتا۔ وہ ٹرمپ کے برانڈ کو امریکی کامیابی کی علامت قرار دیتے ہیں جو عالمی سطح پر ان کے قد کاٹھ کو بڑھاتا ہے۔
جیسے جیسے ٹرمپ وائٹ ہاؤس میں اپنی گرفت مضبوط کر رہے ہیں، توجہ ان کے مالیاتی گوشواروں پر مرکوز ہے۔ محکمہ انصاف اور آئی آر ایس اب ان کی انتظامیہ کے زیر اثر ہیں، ایسے میں وہ روایتی نگرانی کے نظام جو صدارتی مالیات میں شفافیت برقرار رکھتے ہیں، کڑے امتحان سے گزریں گے۔ دنیا اب یہ دیکھ رہی ہے کہ کیا صدر کا لیجر صرف ایک نجی معاملہ رہے گا یا ان کے عوامی ایجنڈے کا بنیادی محرک بن جائے گا۔
