اسلام آباد — سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے تفویضِ اختیارات نے جمعہ کے روز 18ویں آئینی ترمیم کے تحت صوبوں کو منتقل کیے گئے محکموں پر وفاقی وزارتوں کے دوبارہ قیام پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ پارلیمنٹ ہاؤس میں سینیٹر ضمیر حسین گھمرو کی صدارت میں ہونے والے اجلاس میں بتایا گیا کہ 2011 میں نوٹیفیکیشنز کے ذریعے 17 وزارتیں مکمل طور پر صوبوں کو منتقل کر دی گئی تھیں، لہٰذا اس تاریخ کے بعد وفاق میں ان محکموں کا دوبارہ قیام آئین کی صریح خلاف ورزی ہے۔ کمیٹی نے اس معاملے کی باریک بینی سے جانچ پڑتال کے لیے ایک ذیلی کمیٹی بھی تشکیل دے دی ہے۔
سینیٹر ضمیر گھمرو نے واضح کیا کہ آئین کے تحت وفاق میں صرف 9 بنیادی وزارتیں (جیسے دفاع، خارجہ، خزانہ اور تجارت) ہونی چاہئیں، لیکن اس وقت وفاقی ڈھانچہ پھیلا کر 31 وزارتوں تک پہنچا دیا گیا ہے۔ تعلیم، صحت، فوڈ سیکیورٹی اور ماحولیاتی تبدیلی جیسے صوبائی موضوعات پر وفاقی وزارتوں کا برقرار رہنا نہ صرف آئین کے خلاف ہے بلکہ معاشی مشکلات کے اس دور میں قومی خزانے پر ایک اضافی مالی بوجھ بھی ہے۔ کمیٹی نے اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کو صوبائی محکموں میں نئی تقرریوں سے روکتے ہوئے 15 دن میں رپورٹ طلب کر لی ہے، جبکہ صوبوں کو گزشتہ 16 سال کے دوران تیل اور گیس کی مد میں ملنے والے ریونیو کی تفصیلات بھی فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے کیونکہ صوبوں کو ان کا جائز حصہ نہیں مل رہا۔
