اسلام آباد — نیشنل الیکٹرک پاور ریگیولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے جمعہ کے روز پاور سیکٹر میں ایک تاریخی فیصلہ سناتے ہوئے ایم نائن (M-9) موٹروے پر واقع ڈی ایچ اے سٹی کراچی کے لیے ایک نجی کمپنی ‘ڈیسکو’ (DESCO) کو بجلی کی تقسیم (ڈسٹری بیوشن) اور آخری سہارے کے فراہم کنندہ (SoLR) کے دو متوازی لائسنس 21 سال کی مدت کے لیے جاری کر دیے ہیں۔ کمپیٹیٹو ٹریڈنگ بائی لیٹرل کانٹریکٹ مارکیٹ (CTBCM) کے نئے قوانین کے تحت یہ اپنی نوعیت کا پہلا اقدام ہے جس میں سابقہ واپڈا ڈسٹری بیوشن کمپنیوں یا کے-الیکٹرک جیسی روایتی کمپنیوں کے بجائے ایک نجی ادارے کو یہ دونوں لائسنس بیک وقت دیے گئے ہیں۔ ابتدائی طور پر ڈیسکو کے لائسنس کا دائرہ اختیار ضلع ملیر میں واقع ڈی ایچ اے سٹی کراچی کی حدود تک محدود رہے گا۔
سرکاری ادارے سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (CPPA)، گیپکو اور کے-الیکٹرک (جس کے پاس 2044 تک کراچی میں بجلی کی فراہمی کا لائسنس ہے) نے ڈیسکو کی مالی صحت اور تکنیکی مہارت پر سوال اٹھاتے ہوئے اس درخواست کی سخت مخالفت کی تھی۔ تاہم نیپرا نے تمام اعتراضات کو مسترد کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ نیپرا ایکٹ میں ترامیم کا مقصد پاور سیکٹر میں اصلاحات لانا اور اجارہ داری کا خاتمہ کرنا ہے۔ ڈیسکو کا اس وقت نیشنل گرڈ یا کے-الیکٹرک کے نیٹ ورک سے کوئی براہ راست رابطہ نہیں ہے، اسی لیے کمپنی نے قریبی واقع لکی سیمنٹ لمیٹڈ سے 6 میگاواٹ بجلی حاصل کر کے ڈی ایچ اے سٹی کے رہائشی اور تجارتی صارفین کو فراہم کرنے کا معاہدہ کیا ہے۔ نیپرا کے مطابق نجی کمپنی صارفین سے صرف وہی ٹیرف وصول کرنے کی مجاز ہوگی جو ریگولیٹر سے منظور شدہ ہوگا۔
