کراچی کی ساحلی پٹی کو درپیش خطرات کا حل کسی مہنگی انجینئرنگ میں نہیں، بلکہ سمندر کے کنارے اگنے والے مینگروز کے جنگلات میں پنہاں ہے۔ ماحولیاتی پائیداری پر منعقدہ ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے جنید انور نے واضح کیا کہ ساحلی کٹاؤ اور شہری سیلاب کے خلاف مینگروز ایک قدرتی ڈھال کی حیثیت رکھتے ہیں۔
"ہم مہنگے تعمیراتی حل تلاش کر رہے ہیں، جبکہ سب سے مؤثر رکاوٹ کو ترقیاتی منصوبوں کے نام پر ختم کیا جا رہا ہے،” جنید انور نے ماہرینِ ماحولیات اور شہری منصوبہ سازوں کے سامنے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ مینگروز کی گھنی جڑیں سمندری لہروں کے زور کو توڑتی ہیں اور ساحل کی مٹی کو بہہ جانے سے روکتی ہیں، جو بصورتِ دیگر سمندر کی نذر ہو جاتی۔
اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ مینگروز سمندری لہروں کی توانائی کو جذب کر کے مون سون کے دوران سیلابی پانی کے پھیلاؤ کو نمایاں حد تک کم کر دیتے ہیں۔ ان جنگلات کے بغیر ساحل اپنی قدرتی حفاظتی تہہ کھو دیتا ہے، جس سے شہری مراکز اور وہاں موجود تنصیبات براہِ راست خطرے کی زد میں آ جاتے ہیں۔
شہر کی ساحلی پٹی پر واقع مینگروز کو غیر قانونی تعمیرات اور صنعتی تجاوزات کا مستقل سامنا ہے۔ جنید انور نے موجودہ منصوبہ بندی کے تضاد کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ پالیسی ساز کنکریٹ کی دیواریں کھڑی کرنے کو ترجیح دیتے ہیں، جو اکثر اردگرد کے علاقوں میں کٹاؤ کو مزید بڑھا دیتی ہیں، جبکہ مینگروز کا نظام خود کار طریقے سے ماحول کو درست رکھنے اور کاربن جذب کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
یہ موقف ماحولیاتی پالیسی میں ایک اہم تبدیلی کی عکاسی کرتا ہے۔ ساحل کو تعمیرات کے لیے خالی زمین سمجھنے کے بجائے، جنید انور نے اسے قومی سلامتی کا معاملہ قرار دیا۔ جب مینگروز کم ہوتے ہیں، تو سمندری سیلاب کی شدت اور تعدد میں اضافہ ہوتا ہے، جس سے ماہی گیر برادری کا روزگار اور بندرگاہی آپریشنز براہِ راست متاثر ہوتے ہیں۔
مسئلہ قوانین کے نفاذ کا ہے۔ اگرچہ کاغذات میں ماحولیاتی تحفظ کے ضوابط موجود ہیں، لیکن شہر کے مضافات میں ان جنگلات کی تباہی کا عمل آج بھی جاری ہے۔
جنید انور نے بات کا اختتام ایک تلخ حقیقت پر کیا: "قدرت ہم سے تحفظ کے لیے کوئی بجٹ نہیں مانگ رہی، وہ صرف یہ چاہتی ہے کہ اسے اپنے حال پر چھوڑ دیا جائے۔”
