گڈو بیراج کے مقام پر دریائے سندھ میں پانی کی سطح میں اچانک 45 ہزار کیوسک کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے بعد محکمہ آبپاشی نے زیریں علاقوں میں ہنگامی صورتحال کے پیش نظر الرٹ جاری کر دیا ہے۔
پانی کے بہاؤ میں یہ تیز رفتار اضافہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران سامنے آیا ہے۔ اگرچہ دریا فی الحال ‘نچلے درجے کے سیلاب’ کی سطح پر ہے، لیکن بہاؤ میں تیزی نے انتظامیہ کی مشکلات بڑھا دی ہیں۔ محکمہ آبپاشی کے ذرائع کے مطابق، پانی کی یہ مقدار اب سکھر بیراج کی جانب بڑھ رہی ہے، جس کے باعث اگلے 24 گھنٹے انتہائی اہم ہیں۔
"ہم ٹیلی میٹری ڈیٹا کی ہر گھنٹے نگرانی کر رہے ہیں،” محکمہ آبپاشی کے ایک افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا۔ "اوپری علاقوں میں برف پگھلنے اور بارشوں کے باعث پانی کی سطح میں یہ اضافہ متوقع تھا، لیکن اس کی رفتار نے حفاظتی انتظامات کو فوری طور پر فعال کرنے پر مجبور کیا ہے۔”
شمالی سندھ اور بلوچستان کے زرعی علاقوں کے لیے گڈو بیراج ایک لائف لائن کی حیثیت رکھتا ہے۔ تاہم، پانی کا اچانک دباؤ بیراج کے حفاظتی پشتوں کے لیے ایک بڑا امتحان بن چکا ہے، جن کی دیکھ بھال کا معیار گزشتہ کئی برسوں سے بحث کا موضوع رہا ہے۔
مقامی کاشتکاروں کے لیے یہ صورتحال تشویشناک ہے۔ ایک جانب دریا کا پانی فصلوں کے لیے ضروری ہے، تو دوسری جانب کسی بھی ناخوشگوار صورت میں کچے کے علاقے میں کھڑی فصلوں اور دیہی انفراسٹرکچر کے ڈوبنے کا خطرہ سر پر منڈلا رہا ہے۔
ضلعی انتظامیہ نے ڈیزاسٹر مینجمنٹ ٹیموں کو الرٹ کر دیا ہے۔ امدادی کیمپوں اور مشینری کی جانچ پڑتال شروع کر دی گئی ہے، تاہم ماضی کے تجربات بتاتے ہیں کہ دریائی سیلاب کی رفتار کے مقابلے میں انتظامی مشینری اکثر سست روی کا شکار رہتی ہے۔
اگلے دو روز فیصلہ کن ہوں گے۔ اگر پانی کا بہاؤ اسی سطح پر مستحکم رہا تو بیراج کا نظام دباؤ برداشت کر لے گا، لیکن اگر بہاؤ میں مزید اضافہ ہوا تو انتظامیہ کو نقل مکانی اور ہنگامی انخلاء جیسے مشکل اقدامات کرنے پڑیں گے۔
