پاکستان بھر میں ٹماٹر کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے باعث پہلے ہی مہنگائی سے متاثر عوام پر مزید مالی بوجھ پڑ گیا ہے۔ ملک کے مختلف شہروں کی ریٹیل مارکیٹوں میں ٹماٹر کی قیمتیں تیزی سے بڑھ رہی ہیں، جبکہ صارفین روزمرہ استعمال کی اس اہم سبزی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں پر شدید تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔
مارکیٹ ذرائع کے مطابق قیمتوں میں اضافے کی بڑی وجوہات میں مقامی پیداوار میں کمی، موسمی تبدیلیاں، ٹرانسپورٹ کے بڑھتے ہوئے اخراجات اور طلب میں اضافہ شامل ہیں۔ بعض زرعی علاقوں میں نامساعد موسمی حالات کے باعث ٹماٹر کی فصل متاثر ہوئی، جس سے منڈیوں میں تازہ سپلائی کم ہو گئی۔
تاجروں کا کہنا ہے کہ تھوک مارکیٹ میں قیمتیں بڑھنے کے بعد اس کا براہِ راست اثر ریٹیل مارکیٹ پر پڑا، جہاں صارفین کو زیادہ قیمت ادا کرنا پڑ رہی ہے۔ بڑھتی ہوئی مہنگائی کے باعث کئی خاندانوں نے ٹماٹر کی خریداری کم کر دی ہے یا متبادل سبزیوں کا استعمال شروع کر دیا ہے۔
ٹماٹر کی قیمتوں میں اضافے نے ہوٹلوں، ریسٹورنٹس اور کھانے پینے کے کاروبار سے وابستہ افراد کو بھی متاثر کیا ہے، کیونکہ یہ سبزی متعدد پکوانوں کا بنیادی جزو ہے۔ کاروباری حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر قیمتیں اسی طرح بلند رہیں تو انہیں اپنے اخراجات پورے کرنے کے لیے کھانوں کی قیمتیں بڑھانا پڑ سکتی ہیں۔
زرعی ماہرین کے مطابق جب مختلف پیداواری علاقوں سے نئی فصل منڈیوں میں پہنچے گی تو قیمتوں میں کچھ استحکام آنے کی توقع ہے۔ تاہم اگر موسم، پیداوار یا ترسیل میں مزید رکاوٹیں پیدا ہوئیں تو مہنگائی کا یہ رجحان مزید جاری رہ سکتا ہے۔
عوام نے حکومت اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری کے خلاف مؤثر کارروائی کی جائے، سبزیوں کی مسلسل فراہمی یقینی بنائی جائے اور عام شہریوں کو مہنگائی سے ریلیف فراہم کیا جائے۔
