لندن — نومبر 2010 میں جب پرنس ولیم اور کیٹ مڈلٹن کی منگنی کا اعلان ہوا، تو برطانوی شاہی محل (کینسنگٹن پیلس) کے پردے کے پیچھے مستقبل کی ملکہ کا عوامی تاثر تبدیل کرنے کی ایک بڑی مہم شروع ہو چکی تھی۔ اگرچہ پرنس ولیم نے ٹیلی ویژن انٹرویو کے دوران اپنی منگیتر کو محبت سے "کیٹ” کہہ کر پکارا تھا، لیکن شاہی امور کے سینیئر نامہ نگار سائمن ویگر نے انکشاف کیا ہے کہ اس کے فوراً بعد تمام میڈیا ہاؤسز کو ایک خفیہ ہدایت جاری کی گئی تھی۔ میڈیا کو سختی سے کہا گیا تھا کہ وہ یونیورسٹی کے زمانے کے اس غیر رسمی نام کے بجائے ان کا اصل نام "کیتھرین” استعمال کرنا شروع کریں۔
اپنی کتاب میں ویگر بتاتے ہیں کہ اگرچہ اسکول اور یونیورسٹی کے دوست (بشمول پرنس ولیم) انہیں کیٹ کہتے تھے، لیکن ان کا خاندان اور قریبی دوست ہمیشہ انہیں کیتھرین ہی پکارتے تھے۔ شاہی محل کی اس باضابطہ کوشش کے باوجود، دنیا بھر کے میڈیا نے سرچ انجن آپٹیمائزیشن (SEO) اور اخبارات کی سرخیوں کی مجبوری کے باعث "کیٹ” نام کا استعمال بند نہیں کیا۔ اخبارات کے پاس سرخیوں میں جگہ کم ہوتی ہے، اس لیے وہ ‘ڈائی’ (لیڈی ڈیانا) اور ‘میگ’ (میگن مارکل) کی طرح ‘کیٹ’ لکھنا پسند کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ، چونکہ انٹرنیٹ پر اربوں لوگ ‘کیٹ مڈلٹن’ یا ‘پرنسس کیٹ’ ہی سرچ کرتے ہیں، اس لیے میڈیا ویورز تک پہنچنے کے لیے اسی نام کو ترجیح دیتا ہے۔ اگرچہ برطانوی شاہی قوانین کے مطابق انہیں براہِ راست ‘پرنسس کیٹ’ کہنا پروٹوکول کے خلاف ہے، لیکن عوامی مقبولیت کی وجہ سے یہ نام اب ہمیشہ کے لیے برقرار نظر آتا ہے۔
