لاہور — کیپٹل سٹی پولیس آفیسر نے بدھ کے روز شہر کے علاقے گلبرگ میں ایک غیر قانونی چھاپہ مارنے پر ایس ایچ او سمیت 12 پولیس اہلکاروں کو فوری طور پر معطل کر دیا۔
یہ کارروائی رہائشیوں کی جانب سے موصول ہونے والی شکایات کے بعد عمل میں آئی۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق، ایس ایچ او کی قیادت میں پولیس ٹیم نے بغیر کسی سرچ وارنٹ یا قانونی جواز کے ایک نجی گھر میں گھس کر توڑ پھوڑ کی۔ اہلکاروں کی جانب سے مکینوں کو دھمکانے اور گھر کا سامان تباہ کرنے کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہوئیں، جس کے بعد محکمہ پولیس کو سخت دباؤ کا سامنا کرنا پڑا۔
سی سی پی او آفس نے تصدیق کی ہے کہ پوری ٹیم کو "اختیارات کے ناجائز استعمال اور بدتمیزی” کی پاداش میں معطل کیا گیا ہے۔ تمام اہلکاروں کے خلاف محکمانہ انکوائری شروع کر دی گئی ہے۔ اگر الزامات ثابت ہوئے تو یہ اہلکار ملازمت سے مستقل برطرفی کا سامنا کریں گے۔
لاہور میں پولیس کی جانب سے اختیارات سے تجاوز کے واقعات معمول بن چکے ہیں۔ محکمہ پنجاب پولیس طویل عرصے سے "تھانہ کلچر” کو تبدیل کرنے کے دعوے کرتا رہا ہے، لیکن ایک ہی دن میں 12 اہلکاروں کی معطلی اس بات کا ثبوت ہے کہ اعلیٰ حکام پر کارروائی کے لیے کتنا دباؤ تھا۔
معطلی کے باوجود متاثرہ خاندان کا کہنا ہے کہ ان کی مشکلات ختم نہیں ہوئیں۔ انہوں نے صحافیوں کو بتایا کہ ملوث اہلکاروں کے ساتھیوں نے ان پر دباؤ ڈالنا شروع کر دیا ہے تاکہ وہ اپنی شکایت واپس لے لیں۔
متاثرہ گھر کے مالک نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا، "وہ ہمارے گھر میں مجرموں کی طرح گھس آئے۔ ہمیں صرف معطلی کافی نہیں، ہم چاہتے ہیں کہ ان کے خلاف مقدمہ درج ہو تاکہ آئندہ کوئی ایسا کرنے کی ہمت نہ کرے۔”
سی سی پی او نے متعلقہ ایس پی کو 48 گھنٹوں کے اندر تحقیقات مکمل کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا یہ انکوائری کسی منطقی انجام تک پہنچتی ہے یا پھر پولیس کے روایتی دباؤ کی نذر ہو جاتی ہے۔
