کراچی: سندھ حکومت نے صوبے میں برطانوی سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے ایک جارحانہ اصلاحاتی مہم کا آغاز کر دیا ہے۔ اس اقدام کا بنیادی مقصد ان رکاوٹوں کو دور کرنا ہے جو برسوں سے غیر ملکی سرمایہ کاروں کی راہ میں حائل رہی ہیں۔
صوبائی حکام کو توقع ہے کہ جائیداد کی رجسٹریشن، ٹیکس گوشواروں کی ڈیجیٹلائزیشن اور بیوروکریٹک پیچیدگیوں کے خاتمے سے برطانوی کمپنیوں کا اعتماد بحال ہوگا۔ ماضی میں مبہم قانونی فریم ورک اور زمین کے حصول میں درپیش مسائل کی وجہ سے برطانوی کمپنیاں یہاں سرمایہ کاری سے گریزاں رہی ہیں۔
سندھ بورڈ آف انویسٹمنٹ کی جانب سے ترتیب دیے گئے اس منصوبے کے تین اہم ستون ہیں: لینڈ ریکارڈ کا ڈیجیٹل نظام، صنعتی لائسنسنگ کے لیے ‘سنگل ونڈو’ پورٹل کا قیام، اور غیر ملکی کمپنیوں کے تنازعات کے حل کے لیے ایک خصوصی میکانزم۔
اس پالیسی سے واقف ایک سینئر حکومتی عہدیدار کا کہنا ہے کہ "ہم اب صرف دعوے نہیں کر رہے، بلکہ نظام کی خرابیوں کو درست کر رہے ہیں۔ برطانوی کمپنیاں شفافیت اور پیش گوئی کے قابل ماحول چاہتی ہیں۔ اگر ہم زمین کے واضح حقوق اور ٹیکس کی ادائیگی کا شفاف ٹائم لائن دے دیں، تو سرمایہ کاری خود بخود آئے گی۔”
برطانیہ پاکستان کے بڑے تجارتی شراکت داروں میں سے ایک ہے، لیکن سندھ میں براہِ راست برطانوی سرمایہ کاری طویل عرصے سے جمود کا شکار ہے۔ برطانوی سرمایہ کاروں نے ہمیشہ کاروبار کی بلند لاگت اور شکایات کے ازالے کے لیے شفاف نظام کی کمی کو بڑی وجہ قرار دیا ہے۔
اس خلیج کو پُر کرنے کے لیے سندھ حکومت نے کراچی میں برطانوی ڈپٹی ہائی کمیشن سے رابطہ کیا ہے اور ایک مشترکہ ٹاسک فورس بنانے کی تجویز دی ہے۔ یہ فورس ان اصلاحات پر عمل درآمد کی نگرانی کرے گی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں اور صوبائی کابینہ کے درمیان براہِ راست رابطے کا ذریعہ بنے گی۔ اس کا مقصد بیوروکریسی کی ان تہوں کو ختم کرنا ہے جو اکثر منصوبوں کو تاخیر کا شکار بناتی ہیں۔
تاہم ماہرینِ معاشیات اس حوالے سے محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ اصلاحات کا ایجنڈا کاغذ پر تو مضبوط ہے، لیکن اصل امتحان اس پر عمل درآمد کا ہے۔ سندھ میں پالیسیوں کے نفاذ کا ریکارڈ اتار چڑھاؤ کا شکار رہا ہے، اور سرمایہ کار دیکھنا چاہتے ہیں کہ کیا یہ تبدیلیاں سیاسی تبدیلیوں کے بعد بھی برقرار رہتی ہیں۔
کراچی میں مقیم ایک مالیاتی تجزیہ کار نے کہا کہ "نیت تو واضح ہے، لیکن شکوک و شبہات برسوں کے تلخ تجربات سے جڑے ہیں۔ سنگل ونڈو پورٹل ایک اچھا آغاز ہے، لیکن یہ تبھی کام کرے گا جب میز کے پیچھے بیٹھے افسران اسے کام کرنے دیں گے۔”
صوبائی حکومت اگلے ماہ لندن سے آنے والے ایک تجارتی وفد کے استقبال کی تیاری کر رہی ہے۔ یہ اصلاحاتی مہم کتنی کامیاب ہوگی، اس کا انحصار اس بات پر ہے کہ یہ ڈیجیٹل سسٹمز کتنی جلدی فعال ہوتے ہیں اور حکومت ان اصلاحات کو برقرار رکھنے کے لیے کتنا سیاسی عزم دکھاتی ہے۔
