وفاقی حکومت نے ملکی خزانے پر بوجھ بننے والی بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے۔ یہ قدم توانائی کے شعبے میں جاری مالی بحران اور گردشی قرضوں کے پہاڑ کو کم کرنے کی ایک کوشش ہے۔
وزیر نجکاری عبدالعلیم خان نے اس پیش رفت کی تصدیق کی ہے۔ حکومت کی ترجیح وہ کمپنیاں ہیں جو سب سے زیادہ مالی خسارے کا شکار ہیں۔ یہ فیصلہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے ان مطالبات کا حصہ ہے جن میں سرکاری اداروں میں نظم و ضبط اور کارکردگی لانے پر زور دیا گیا تھا۔
منصوبے کے تحت حکومت ان کمپنیوں کے اثاثے مکمل فروخت کرنے کے بجائے ان کا انتظامی کنٹرول نجی شعبے کے حوالے کرے گی۔ حکومتی حلقوں کا ماننا ہے کہ اس سے برسوں سے جاری سیاسی بھرتیاں، بدانتظامی اور بجلی چوری کا خاتمہ ممکن ہوگا۔
ان کمپنیوں کی کارکردگی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ کچھ علاقوں میں بجلی کی ترسیل اور تقسیم کے دوران ہونے والے نقصانات 30 فیصد سے تجاوز کر چکے ہیں۔ ایک نجی آپریٹر، جو منافع اور سخت کارکردگی کے اہداف کے تحت کام کرے گا، ان نقصانات کو کم کرنے کے لیے بہتر پوزیشن میں ہوگا۔
تاہم، یہ عمل سیاسی طور پر کانٹوں کی سیج ہے۔ بجلی کے شعبے سے وابستہ یونینز نے پہلے ہی مزاحمت کا عندیہ دے دیا ہے، جنہیں خدشہ ہے کہ نجکاری کے بعد ملازمین کی برطرفیاں ہوں گی اور بجلی کے نرخوں میں مزید اضافہ کیا جائے گا۔ ماضی کی حکومتیں بھی نجکاری کے ایسے منصوبے لاتی رہی ہیں، لیکن عوامی احتجاج اور ہڑتالوں کے خوف سے پیچھے ہٹنا پڑا۔
حکومت کے لیے سب سے بڑا چیلنج ان کمپنیوں کی درست ویلیوایشن (قیمت کا تعین) ہے۔ سرمایہ کار اس شعبے میں ریگولیٹری ماحول کے حوالے سے تذبذب کا شکار ہیں، جہاں اکثر سیاسی مداخلت معاہدوں پر حاوی رہتی ہے۔ بولی دہندگان کو راغب کرنے کے لیے نجکاری کمیٹی نے مرحلہ وار طریقہ کار تجویز کیا ہے، جس کی شروعات ان کمپنیوں سے ہو گی جو جلد بہتری کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
کیا حکومت ان کمپنیوں کے لیے قابلِ اعتماد خریدار ڈھونڈ پائے گی؟ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ریگولیٹری فریم ورک میں بنیادی تبدیلیاں نہ کی گئیں تو حکومت کو یا تو بہت کم خریدار ملیں گے یا پھر انہیں مجبوراََ انتہائی کم قیمت پر یہ ادارے بیچنا پڑیں گے، جس سے قومی خزانے کو وقتی ریلیف تو ملے گا مگر دیرپا فائدہ نہیں۔
جیسے جیسے ٹینڈر کے دستاویزات مارکیٹ میں آنے کو تیار ہیں، حکومت کے پاس وقت کم ہے۔ توانائی کے شعبے کا خسارہ وسیع تر معاشی اصلاحات کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے، اور اس نجکاری مہم کی کامیابی ہی موجودہ انتظامیہ کی معاشی ساکھ کا تعین کرے گی۔
