مظفرآباد — آزاد کشمیر میں قانون ساز اسمبلی کے انتخابات کے لیے ووٹنگ کا عمل سخت سکیورٹی حصار میں شروع ہوا، تاہم پولنگ کے ابتدائی گھنٹوں میں ہی سیاسی کارکنوں کے درمیان تصادم کے واقعات نے انتخابی ماحول کو کشیدہ کر دیا ہے۔
نیلم ویلی کے مختلف پولنگ اسٹیشنز پر صبح آٹھ بجے ووٹنگ شروع ہوتے ہی دو حریف جماعتوں کے کارکن آمنے سامنے آ گئے۔ پتھراؤ اور فائرنگ کے تبادلے سے کم از کم تین افراد زخمی ہوئے، جس کے بعد حکام نے علاقے میں رینجرز کو طلب کر لیا۔ کشیدگی کے باعث کئی مقامات پر ووٹنگ کا عمل عارضی طور پر معطل کرنا پڑا۔
الیکشن کمیشن کی جانب سے پرامن انتخابات کے دعوے اپنی جگہ، مگر زمینی حقائق سیاسی تقسیم کی گہرائی کو ظاہر کر رہے ہیں۔ یہ انتخابات محض مقامی نشستوں کا معاملہ نہیں، بلکہ وفاقی سطح پر اثر و رسوخ رکھنے والی بڑی سیاسی جماعتوں کے لیے اپنی طاقت کا مظاہرہ بن چکے ہیں۔
مظفرآباد کے ایک پولنگ اسٹیشن کے قریب موجود دکاندار نے بتایا کہ "ہنگامہ آرائی شروع ہوتے ہی لوگ جان بچانے کے لیے بھاگے۔ یہاں مقابلہ بیلٹ پیپر کا نہیں، گلیوں میں طاقت دکھانے کا ہے۔”
شہری مراکز میں ووٹرز کی آمد کا سلسلہ جاری ہے، لیکن دیہی علاقوں میں ہونے والی جھڑپوں نے مجموعی ٹرن آؤٹ پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ انتخابی عمل میں خلل روکنے اور افواہوں کے پھیلاؤ کو کنٹرول کرنے کے لیے حساس علاقوں میں موبائل انٹرنیٹ سروس بھی معطل کر دی گئی ہے۔
اپوزیشن جماعتوں نے سرکاری مشینری کے غلط استعمال اور دھاندلی کے الزامات عائد کیے ہیں، جبکہ حکومتی حلقے ان واقعات کو ‘شرپسند عناصر’ کی کارروائی قرار دے کر مسترد کر رہے ہیں۔
پولنگ اسٹیشنز کے باہر پولیس اور نیم فوجی دستوں کی بھاری نفری تعینات ہے۔ انتظامیہ کی کوشش ہے کہ کسی بڑے تصادم کو روکا جائے، تاہم اصل امتحان ووٹنگ ختم ہونے کے بعد گنتی کے مرحلے میں درپیش ہوگا۔
انتخابات کے یہ نتائج اگلے پانچ برسوں کے لیے خطے کی سیاسی سمت کا تعین کریں گے، لیکن اس وقت سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ کیا ووٹنگ کا عمل بغیر کسی بڑے جانی نقصان کے مکمل ہو پائے گا؟
