سائنسدانوں نے زہرہ کے پراسرار فضائی ماحول کے بارے میں اہم نئی معلومات حاصل کی ہیں، جن سے اس سیارے کی انتہائی سخت موسمی حالت، گھنے بادلوں، طاقتور ہواؤں اور فضائی کیمیائی ساخت کو بہتر انداز میں سمجھنے میں مدد مل رہی ہے۔
خلائی مشنز، زمینی رصدگاہوں اور جدید کمپیوٹر ماڈلز سے حاصل ہونے والے ڈیٹا کا تجزیہ کرتے ہوئے محققین نے زہرہ کے فضائی ماحول میں گیسوں، حرارت اور بادلوں کی گردش کا تفصیلی مطالعہ کیا۔ تحقیق سے معلوم ہوا کہ یہ تمام عوامل مل کر زہرہ کو شمسی نظام کے سب سے زیادہ گرم اور انتہائی ناموافق سیاروں میں تبدیل کرتے ہیں۔
اگرچہ عطارد سورج کے زیادہ قریب ہے، لیکن زہرہ شمسی نظام کا سب سے گرم سیارہ ہے، جہاں سطح کا درجۂ حرارت تقریباً 465 ڈگری سینٹی گریڈ (869 ڈگری فارن ہائیٹ) تک پہنچ جاتا ہے۔ سائنسدانوں کے مطابق اس کی فضا تقریباً 96 فیصد کاربن ڈائی آکسائیڈ پر مشتمل ہے، جو انتہائی طاقتور گرین ہاؤس ایفیکٹ پیدا کرتی ہے اور حرارت کو مسلسل اپنے اندر قید رکھتی ہے۔
تحقیق میں یہ بھی معلوم ہوا کہ زہرہ کے گھنے بادل بنیادی طور پر سلفیورک ایسڈ کے ننھے قطروں پر مشتمل ہیں۔ یہی بادل سورج کی روشنی کا بڑا حصہ واپس منعکس کرتے ہیں، جس کی وجہ سے زہرہ رات کے آسمان کے روشن ترین اجرام میں شمار ہوتا ہے، تاہم یہی بادل اس کی سطح کو عام دوربینوں سے دیکھنے نہیں دیتے۔
سائنسدانوں کی توجہ ایک اور پراسرار مظہر "ایٹموسفیرک سپر روٹیشن " پر بھی مرکوز ہے۔ اس عمل میں زہرہ کی فضا کی ہوائیں صرف چند دنوں میں پورے سیارے کا چکر لگا لیتی ہیں، حالانکہ زہرہ خود اپنی محوری گردش مکمل کرنے میں 243 زمینی دن لیتا ہے۔ ماہرین اب بھی تحقیق کر رہے ہیں کہ یہ غیر معمولی رفتار کیسے پیدا ہوتی ہے اور اتنے عرصے تک برقرار کیسے رہتی ہے۔
تازہ تحقیق نے زہرہ کی فضا، ممکنہ آتش فشانی سرگرمی اور اس کی موسمیاتی تاریخ کے درمیان تعلق کے بارے میں بھی نئی معلومات فراہم کی ہیں۔ بعض سائنسدانوں کا خیال ہے کہ اربوں سال پہلے زہرہ پر مائع پانی کے سمندر موجود ہو سکتے تھے، لیکن بعد میں بے قابو گرین ہاؤس ایفیکٹ نے اسے آج کے انتہائی گرم اور خشک سیارے میں تبدیل کر دیا۔ تاہم اس نظریے پر مزید تحقیق جاری ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ زہرہ کا مطالعہ صرف اس سیارے کو سمجھنے کے لیے ہی نہیں بلکہ سیاروں کے ارتقا، موسمیاتی تبدیلی اور چٹانی سیاروں کے فضائی ماحول کو سمجھنے کے لیے بھی نہایت اہم ہے۔ مستقبل کے خلائی مشنز سے امید ہے کہ زہرہ کے بارے میں مزید اہم راز سامنے آئیں گے۔
سائنسدانوں کے مطابق ہر نئی دریافت انسان کو اس سوال کے جواب کے مزید قریب لے جا رہی ہے کہ ایک جیسے حجم رکھنے کے باوجود زمین اور زہرہ نے ارتقا کے دوران اتنے مختلف راستے کیوں اختیار کیے۔
