سائنسدانوں نے ڈولفن کی باہمی گفتگو اور رابطے کے نظام کے بارے میں اہم نئی معلومات حاصل کی ہیں، جن سے یہ بہتر انداز میں سمجھنے میں مدد مل رہی ہے کہ یہ ذہین سمندری ممالیہ ایک دوسرے سے کیسے معلومات کا تبادلہ کرتے ہیں، اجتماعی سرگرمیوں کو کس طرح منظم کرتے ہیں اور اپنے سماجی تعلقات کو کیسے مضبوط بناتے ہیں۔
محققین نے جنگلی ڈولفن کے مختلف غولوں کا مطالعہ پانی کے اندر نصب حساس مائیکروفونز ، ڈرونز اور جدید صوتی تجزیاتی ٹیکنالوجی کی مدد سے کیا۔ انہوں نے ہزاروں سیٹی نما آوازوں، کلکس اور دیگر صوتی اشاروں کا تجزیہ کیا، جس سے معلوم ہوا کہ ڈولفن آوازوں کے ساتھ ساتھ جسمانی حرکات کے ذریعے بھی ایک دوسرے سے مؤثر رابطہ کرتی ہیں۔
تحقیق کی ایک اہم دریافت "سگنیچر وسلز " ہیں، جو ہر ڈولفن کی منفرد شناختی آواز ہوتی ہے۔ یہ آواز کسی نام کی طرح کام کرتی ہے، جس کے ذریعے ڈولفن اپنے غول کے مخصوص فرد کو پکار سکتی ہے۔ سائنسدانوں نے پایا کہ ڈولفن کئی سال بعد بھی اپنے ساتھیوں کی ان منفرد آوازوں کو پہچان سکتی ہیں۔
تحقیق سے یہ بھی معلوم ہوا کہ ڈولفن مختلف حالات کے مطابق اپنی آوازیں تبدیل کرتی ہیں۔ وہ ایکو لوکیشن کے لیے تیز کلکس استعمال کرتی ہیں، جن کی مدد سے وہ پانی میں راستہ تلاش کرتی اور شکار کا سراغ لگاتی ہیں، جبکہ مختلف سیٹی نما آوازیں اور جسمانی اشارے سماجی رابطے، اجتماعی شکار اور بچوں کی دیکھ بھال کے دوران استعمال کیے جاتے ہیں۔
سائنسدانوں نے مشاہدہ کیا کہ اجتماعی شکار کے دوران ڈولفن ایک دوسرے کو مخصوص اشارے دیتی ہیں، جن کی مدد سے وہ مچھلیوں کے غول کو گھیر کر انتہائی منظم انداز میں شکار کرتی ہیں۔ یہ تعاون ان کی اعلیٰ ذہانت اور اجتماعی منصوبہ بندی کی صلاحیت کو ظاہر کرتا ہے۔
تحقیق سے یہ بھی اشارہ ملا ہے کہ ڈولفن اپنی آوازوں کی اونچائی، دورانیہ اور انداز میں تبدیلی کر کے مختلف قسم کی معلومات منتقل کر سکتی ہیں، اگرچہ ان آوازوں کے مکمل معنی جاننے کے لیے مزید تحقیق جاری ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ دریافتیں نہ صرف ڈولفن کی ذہانت کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد دیتی ہیں بلکہ جانوروں کی باہمی گفتگو، ذہنی صلاحیتوں اور سماجی ارتقا پر ہونے والی تحقیق میں بھی اہم کردار ادا کریں گی۔
سائنسدانوں کو امید ہے کہ مصنوعی ذہانت اور جدید زیرِ آب ریکارڈنگ ٹیکنالوجی کی مدد سے مستقبل میں ڈولفن کی گفتگو کے مزید حیرت انگیز راز سامنے آئیں گے۔
