مظفرآباد: آزاد جموں و کشمیر کے حلقہ ایل اے 29 مظفرآباد سٹی 3 کے غیر سرکاری نتائج کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار خواجہ فاروق نے اپنے حریفوں کو شکست دے کر کامیابی حاصل کر لی ہے۔ شہر کے مختلف پولنگ اسٹیشنوں سے موصول ہونے والے نتائج کے بعد کارکنوں نے جشن منانا شروع کر دیا ہے۔
یہ کامیابی تحریک انصاف کے لیے دارالحکومت میں اپنی سیاسی گرفت مضبوط رکھنے کے حوالے سے انتہائی اہم سمجھی جا رہی ہے۔ ریٹرننگ آفیسر کے دفتر کے باہر جمع ہونے والے حامیوں کا کہنا ہے کہ حتمی پولنگ اسٹیشنوں سے آنے والے اعداد و شمار اب کسی بھی حریف کے لیے ناقابلِ عبور ہیں۔
ایل اے 29 میں انتخابی معرکہ انتہائی سخت رہا۔ شدید گرمی کے باوجود ووٹرز کی بڑی تعداد گھروں سے نکلی اور شہر کے مختلف حصوں میں پولنگ اسٹیشنوں کے باہر طویل قطاریں دیکھی گئیں۔ یہ حلقہ سیاسی سرگرمیوں کا مرکز رہا ہے، جہاں مقابلہ تحریک انصاف کے مضبوط ووٹ بینک اور اپوزیشن اتحاد کی مشترکہ کوششوں کے درمیان تھا۔
خواجہ فاروق کی انتخابی مہم کا محور بنیادی ڈھانچے کی بہتری اور انتظامی اصلاحات کے وعدے تھے۔ جہاں ان کے حریفوں نے صوبائی حکومت کی پالیسیوں پر سوالات اٹھائے، وہیں فاروق کا موقف رہا کہ شہر میں جاری ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل کے لیے تسلسل ناگزیر ہے۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق جیت کا مارجن اتنا واضح ہے کہ انتخابی دھاندلی کے فوری الزامات کی گنجائش کم ہے۔ البتہ، پہاڑی علاقوں سے بیلٹ پیپرز کی ترسیل میں تاخیر پر اپوزیشن کے پولنگ ایجنٹس نے معمولی تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ انتخابی حکام نے ان شکایات کو تکنیکی تاخیر قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔
مظفرآباد کی فضا میں کشیدگی کے ساتھ ساتھ جشن کا سماں بھی ہے۔ پولیس نے شہر کے مرکزی مقامات پر گشت بڑھا دی ہے تاکہ حریف سیاسی جماعتوں کے کارکنوں کے درمیان کسی ممکنہ تصادم کو روکا جا سکے۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے سرکاری نتائج کا باضابطہ اعلان ہونا ابھی باقی ہے۔
تحریک انصاف کے لیے یہ فتح قانون ساز اسمبلی میں اپنی پوزیشن مستحکم کرنے کا باعث بنے گی۔ مظفرآباد کے عوام کے لیے اب توجہ انتخابی مہم کے نعروں سے ہٹ کر ان وعدوں کی تکمیل پر مرکوز ہو گئی ہے جو گزشتہ تین ہفتوں کی انتخابی مہم کے دوران کیے گئے تھے۔
امکان ہے کہ خواجہ فاروق آج رات اپنے حامیوں سے خطاب کریں گے، جس میں وہ شہر کے ترقیاتی بجٹ اور اپنی ترجیحات کا خاکہ پیش کریں گے۔
