کراچی — تفتیش کاروں نے نوجوان تاجر میر رضا علی کی ہلاکت کے معاملے میں ایک نئی پیش رفت کرتے ہوئے لاش ملنے کے مقام کے قریب "مشکوک موٹر سائیکل سواروں” کی موجودگی کا سراغ لگا لیا ہے۔ انسٹی ٹیوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن (IBA) کے فارغ التحصیل میر رضا علی 28 جولائی کی رات اپنی دکان سے گھر واپس آئے اور کچھ ہی دیر میں واپس آنے کا کہہ کر دوبارہ نکلے، جن کی لاش بعد ازاں گلستانِ جوہر بلاک 1 میں جھاڑیوں سے برآمد ہوئی۔ ابتدائی طبی معائنے کے مطابق مقتول کے سینے پر گولی کا زخم پایا گیا ہے جبکہ تحقیقاتی ٹیمیں اس پہلو کا بھی جائزہ لے رہی ہیں کہ آیا گولی پیچھے سے ماری گئی تھی۔
تفتیشی ذرائع کے مطابق واقعے سے قبل مقتول مبینہ طور پر ایک سیکیورٹی گارڈ کا ہتھیار ساتھ لے گئے تھے، تاہم تاحال نہ تو استعمال ہونے والا اسلحہ اور نہ ہی گولی کا خول برآمد کیا جا سکا ہے۔ سی سی ٹی وی فوٹیج کے مطابق رضا کو آخری بار صبح 4:38 پر گلستانِ جوہر بلاک 1 کے قریب اکیلے چلتے ہوئے دیکھا گیا تھا۔ دریں اثنا، مقتول کے والد نے الزام عائد کیا ہے کہ ان کے بیٹے کو ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت قتل کیا گیا ہے اور واقعے کے بعد انہیں ایک بین الاقوامی نمبر سے دھمکیاں بھی موصول ہوئی ہیں۔ پولیس اس معاملے میں اب تک 15 سے زائد افراد کے بیانات قلمبند کر چکی ہے جبکہ موبائل فون کی فارنزک رپورٹ اور میڈیکل رپورٹ کا انتظار کیا جا رہا ہے۔
