کراچی: معروف ٹیلی ویژن اداکاراؤں شرمین علی، سنیتا مارشل اور صائمہ قریشی نے ندا یاسر کے مارننگ شو میں شرکت کی جہاں انہوں نے بچوں کی پرورش، ان میں صنف سے بالاتر ہو کر خود مختاری پیدا کرنے اور روزمرہ کی زندگی کی ضروری مہارتیں سکھانے کے حوالے سے تفصیلی گفتگو کی۔ اداکاراؤں کا ماننا تھا کہ بچوں کو بچپن ہی سے چھوٹے موٹے کام خود کرنے کی عادت ڈالنی چاہیے۔
سنیتا مارشل نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کراچی جیسے بڑے شہروں میں حفاظتی خدشات کی وجہ سے بچوں کو باہر کھل کر جانے کی آزادی دینا مشکل ہوتا ہے، تاہم ہم گھر کے اندر ان میں خود مختاری پیدا کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا، "ہم بچوں کو بستر درست کرنا اور انڈہ فرائی کرنا سکھا سکتے ہیں تاکہ وہ ہر بات کے لیے ہم پر منحصر نہ رہیں۔” انہوں نے مزید کہا کہ غیر نصابی سرگرمیاں اور ٹائم مینجمنٹ بھی بچوں کو خودمختار بنانے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔
صائمہ قریشی نے ان خیالات کی تائید کرتے ہوئے بتایا کہ وہ اپنے تین بیٹوں کو گھر کے چھوٹے موٹے کام جیسے استری کرنا، صفائی میں مدد کرنا اور چائے بنانا خود سکھاتی ہیں تاکہ وہ مستقبل میں مشکلات کا شکار نہ ہوں۔ سنیتا مارشل نے بتایا کہ ان کے گھر میں گھریلو کاموں کی ذمہ داریاں سب میں برابر تقسیم ہیں، جن میں ان کے شوہر بھی شامل ہیں۔
شرمین علی کا کہنا تھا کہ گھریلو کاموں میں صنفی تفریق کو ختم کرنا نہایت ضروری ہے کیونکہ آج کی ورکنگ مدرز کے لیے ہر وقت بچوں کے پاس موجود رہنا ممکن نہیں ہوتا۔ انہوں نے اپنی زندگی کا ذاتی تجربہ شیئر کرتے ہوئے بتایا کہ طلاق کے بعد ڈرائیونگ سیکھنے سے ان کے اندر حقیقی آزادی اور خود اعتمادی پیدا ہوئی۔ انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ وہ اپنی 17 سالہ بیٹی کو بھی جلد ڈرائیونگ سکھائیں گی تاکہ وہ نقل و حرکت کے لیے کسی پر منحصر نہ رہے۔
شو کے دوران ڈیجیٹل میڈیا اور انٹرنیٹ کے بچوں پر پڑنے والے اثرات پر بھی بات کی گئی۔ اداکاراؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کی وجہ سے آج کے بچے اپنے بڑوں سے بھی زیادہ باخبر ہیں۔ صائمہ اور سنیتا نے چند ایسے واقعات کا ذکر کیا جہاں ان کے بچوں نے آن لائن سیکھ کر انہیں درست معلومات فراہم کیں۔
شرمین علی نے مشورہ دیا کہ بچوں کو ڈیجیٹل ڈیوائسز کے استعمال کی اجازت دی جانی چاہیے لیکن اس کے ساتھ واضح حدود بھی مقرر ہونی چاہئیں کہ پہلے پڑھائی یا دیگر کام مکمل کیے جائیں۔ آخر میں تمام اداکاراؤں نے اس بات پر زور دیا کہ بچوں کی تعلیم، اچھی تربیت اور ان کے دوستوں کے حلقے پر کڑی نظر رکھنا والدین کی اہم ترین ذمہ داری ہے۔
