واشنگٹن: ایک نئی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ شدید نوعیت کا کووڈ 19 جسم میں طویل عرصے سے غیر فعال رہنے والے بعض وائرسز کو دوبارہ متحرک کر سکتا ہے، جبکہ ان میں سے کچھ وائرسز کی سرگرمی طویل مدتی علامات سے بھی منسلک پائی گئی ہے۔
تحقیق کے دوران اسپتال میں زیر علاج کووڈ 19 کے تقریباً نصف مریضوں میں کم از کم ایک غیر فعال وائرس کے دوبارہ متحرک ہونے کے شواہد ملے۔ بدھ کو سائنسی جریدے نیچر میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق وائرسز کی دوبارہ سرگرمی کا تعلق شدید بیماری، جسم میں زیادہ سوزش اور نسبتاً خراب طبی نتائج سے دیکھا گیا۔
تاہم محققین نے واضح کیا کہ تحقیق اس بات کا ثبوت فراہم نہیں کرتی کہ دوبارہ متحرک ہونے والے وائرس براہ راست شدید کووڈ 19 یا طویل مدتی کووڈ کی وجہ بنتے ہیں۔
تحقیق میں امریکا کے 20 اسپتالوں میں مئی 2020 سے مارچ 2021 کے دوران کووڈ 19 کے باعث داخل کیے گئے ایک ہزار 154 بالغ افراد کو شامل کیا گیا۔ تمام شرکاء ویکسین سے محروم تھے اور ان میں کورونا وائرس کے ایسے وقت میں انفیکشن ہوا تھا جب وائرس کی نئی اقسام ابھی غالب نہیں ہوئی تھیں۔
محققین نے مریضوں کے خون، ناک سے لیے گئے نمونوں اور ان مریضوں کے پھیپھڑوں سے حاصل کیے گئے نمونوں کا جائزہ لیا جنہیں مصنوعی تنفس کی ضرورت تھی۔ مریضوں کی اسپتال میں قیام کے دوران اور اس کے بعد 12 ماہ تک نگرانی کی گئی۔
مناسب معلومات دستیاب ہونے والے ایک ہزار 148 مریضوں میں سے 550 میں کم از کم ایک دوبارہ متحرک ہونے والے وائرس کے شواہد ملے، جو تقریباً 47.9 فیصد بنتے ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر مریضوں میں بیماری کے شدید مرحلے کے دوران صرف ایک اضافی وائرس کی موجودگی سامنے آئی۔
تحقیق میں جن وائرسز کی سرگرمی دوبارہ سامنے آئی، ان میں ہرپس وائرس خاندان سے تعلق رکھنے والے ایپسٹین بار وائرس، سائٹو میگالو وائرس اور ہرپس سمپلیکس وائرس کے علاوہ اینیلو وائرسز بھی شامل تھے۔ یہ وائرس عام طور پر زندگی کے ابتدائی مراحل میں انسانوں کو متاثر کر سکتے ہیں اور مدافعتی نظام کے کنٹرول میں جسم میں غیر فعال حالت میں موجود رہتے ہیں۔
محققین کے مطابق مختلف وائرسز کے دوبارہ متحرک ہونے کا وقت بھی ایک جیسا نہیں تھا۔ ایپسٹین بار وائرس کی سرگرمی مریضوں کے اسپتال پہنچنے کے ابتدائی دنوں میں زیادہ عام رہی۔ اسپتال میں داخلے کے پہلے آٹھ دنوں کے دوران تقریباً 24 فیصد مریضوں میں اس وائرس کے آثار پائے گئے، جس کے بعد اس کی سرگرمی میں کمی آتی گئی۔
اینیلو وائرسز کی سرگرمی بھی بیماری کے ابتدائی مرحلے میں زیادہ دیکھی گئی اور تقریباً 20ویں روز تک نسبتاً برقرار رہی۔ اس کے برعکس سائٹو میگالو وائرس اور ہرپس سمپلیکس وائرس عموماً بعد کے مرحلے میں دوبارہ فعال ہوئے اور اسپتال میں داخلے کے تقریباً تین ہفتے بعد ان کی سرگرمی عروج پر پہنچ گئی۔ یہ وائرس زیادہ تر سانس کے نمونوں میں پائے گئے۔
تحقیق میں شدید کووڈ 19 اور ایپسٹین بار وائرس، سائٹو میگالو وائرس، ہرپس سمپلیکس وائرس اور اینیلو وائرسز کی دوبارہ سرگرمی کے درمیان تعلق بھی سامنے آیا۔ جن مریضوں میں وائرسز دوبارہ متحرک ہوئے، ان کے جسم میں سوزش پیدا کرنے والے کیمیائی مادوں کی سطح زیادہ تھی اور بعض مدافعتی خلیوں میں بھی تبدیلیاں دیکھی گئیں۔
اہم بات یہ ہے کہ وائرسز کی دوبارہ سرگرمی صرف ان مریضوں تک محدود نہیں تھی جو مدافعتی نظام کو دبانے والی ادویات استعمال کر رہے تھے۔ یہ عمل ایسے افراد میں بھی دیکھا گیا جن کا مدافعتی نظام بظاہر معمول کے مطابق کام کر رہا تھا۔
محققین نے اینیلو وائرسز پر خصوصی توجہ دی کیونکہ اسپتال سے فارغ ہونے کے بعد ان کی سرگرمی کا تعلق طویل مدتی کووڈ کا سامنا کرنے والے بعض مریضوں میں تھکن اور جسمانی کارکردگی میں کمی جیسی مشکلات سے پایا گیا۔ یہ تعلق عمر، مدافعتی نظام کو متاثر کرنے والی ادویات اور ابتدائی کووڈ کی شدت جیسے عوامل کو مدنظر رکھنے کے بعد بھی برقرار رہا۔
اینیلو وائرسز کو عمومی طور پر بے ضرر سمجھا جاتا ہے اور اندازے کے مطابق یہ دنیا کی تقریباً 80 سے 90 فیصد آبادی میں پائے جاتے ہیں۔
تاہم تحقیق میں یہ ثابت نہیں ہوا کہ کووڈ کے ابتدائی مرحلے کے دوران ایپسٹین بار وائرس کی سرگرمی ان افراد میں زیادہ تھی جنہیں بعد میں طویل مدتی کووڈ کا سامنا ہوا۔
محققین کے مطابق یہ نتائج مستقبل میں شدید کووڈ 19 یا طویل مدتی بیماری کے خطرے سے دوچار مریضوں کی شناخت اور علاج کے نئے طریقوں کی تیاری میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔ تاہم یہ جاننے کے لیے مزید طبی تحقیق اور آزمائشوں کی ضرورت ہوگی کہ وائرسز کی دوبارہ سرگرمی کا علاج کرنے سے مریضوں کے نتائج میں واقعی بہتری آتی ہے یا نہیں۔
محققین نے یہ بھی واضح کیا کہ موجودہ نتائج ہلکے کووڈ 19 کا شکار افراد، ویکسین لگوا چکے افراد یا کورونا وائرس کی حالیہ اقسام سے متاثرہ مریضوں پر لازماً لاگو نہیں کیے جا سکتے۔
سائنسدانوں کے مطابق مزید تحقیق کی ضرورت ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ وائرسز کا دوبارہ متحرک ہونا شدید کووڈ 19 اور طویل مدتی کووڈ میں براہ راست کردار ادا کرتا ہے یا یہ بیماری کے باعث پیدا ہونے والی سوزش اور جسمانی دباؤ کا نتیجہ ہے۔
