MediaHydeMediaHyde
  • صفحہ اول
  • سیاست
  • تعلیم
  • انٹرٹینمنٹ
  • کھیل
  • بلاگ
  • کاروبار اور تجارت
  • دیگر
    • مذہبی
    • میٹروپولیٹن
    • موسمیات و ماحولیات
Font ResizerAa
MediaHydeMediaHyde
Font ResizerAa
  • صفحہ اول
  • سیاست
  • تعلیم
  • انٹرٹینمنٹ
  • کھیل
  • بلاگ
  • کاروبار اور تجارت
  • دیگر
    • مذہبی
    • میٹروپولیٹن
    • موسمیات و ماحولیات
Follow US
© 2026 Media Hyde Network. All Rights Reserved
Health

شدید کووڈ 19 جسم میں غیر فعال وائرسز کو دوبارہ متحرک کر سکتا ہے، تحقیق

Last updated: اگست 6, 2026 6:40 شام
Yamna Shahid
Share
شدید کووڈ 19 جسم میں غیر فعال وائرسز کو دوبارہ متحرک کر سکتا ہے، تحقیق
شدید کووڈ 19 جسم میں غیر فعال وائرسز کو دوبارہ متحرک کر سکتا ہے، تحقیق
SHARE

واشنگٹن: ایک نئی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ شدید نوعیت کا کووڈ 19 جسم میں طویل عرصے سے غیر فعال رہنے والے بعض وائرسز کو دوبارہ متحرک کر سکتا ہے، جبکہ ان میں سے کچھ وائرسز کی سرگرمی طویل مدتی علامات سے بھی منسلک پائی گئی ہے۔

تحقیق کے دوران اسپتال میں زیر علاج کووڈ 19 کے تقریباً نصف مریضوں میں کم از کم ایک غیر فعال وائرس کے دوبارہ متحرک ہونے کے شواہد ملے۔ بدھ کو سائنسی جریدے نیچر میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق وائرسز کی دوبارہ سرگرمی کا تعلق شدید بیماری، جسم میں زیادہ سوزش اور نسبتاً خراب طبی نتائج سے دیکھا گیا۔

تاہم محققین نے واضح کیا کہ تحقیق اس بات کا ثبوت فراہم نہیں کرتی کہ دوبارہ متحرک ہونے والے وائرس براہ راست شدید کووڈ 19 یا طویل مدتی کووڈ کی وجہ بنتے ہیں۔

تحقیق میں امریکا کے 20 اسپتالوں میں مئی 2020 سے مارچ 2021 کے دوران کووڈ 19 کے باعث داخل کیے گئے ایک ہزار 154 بالغ افراد کو شامل کیا گیا۔ تمام شرکاء ویکسین سے محروم تھے اور ان میں کورونا وائرس کے ایسے وقت میں انفیکشن ہوا تھا جب وائرس کی نئی اقسام ابھی غالب نہیں ہوئی تھیں۔

محققین نے مریضوں کے خون، ناک سے لیے گئے نمونوں اور ان مریضوں کے پھیپھڑوں سے حاصل کیے گئے نمونوں کا جائزہ لیا جنہیں مصنوعی تنفس کی ضرورت تھی۔ مریضوں کی اسپتال میں قیام کے دوران اور اس کے بعد 12 ماہ تک نگرانی کی گئی۔

مناسب معلومات دستیاب ہونے والے ایک ہزار 148 مریضوں میں سے 550 میں کم از کم ایک دوبارہ متحرک ہونے والے وائرس کے شواہد ملے، جو تقریباً 47.9 فیصد بنتے ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر مریضوں میں بیماری کے شدید مرحلے کے دوران صرف ایک اضافی وائرس کی موجودگی سامنے آئی۔

تحقیق میں جن وائرسز کی سرگرمی دوبارہ سامنے آئی، ان میں ہرپس وائرس خاندان سے تعلق رکھنے والے ایپسٹین بار وائرس، سائٹو میگالو وائرس اور ہرپس سمپلیکس وائرس کے علاوہ اینیلو وائرسز بھی شامل تھے۔ یہ وائرس عام طور پر زندگی کے ابتدائی مراحل میں انسانوں کو متاثر کر سکتے ہیں اور مدافعتی نظام کے کنٹرول میں جسم میں غیر فعال حالت میں موجود رہتے ہیں۔

محققین کے مطابق مختلف وائرسز کے دوبارہ متحرک ہونے کا وقت بھی ایک جیسا نہیں تھا۔ ایپسٹین بار وائرس کی سرگرمی مریضوں کے اسپتال پہنچنے کے ابتدائی دنوں میں زیادہ عام رہی۔ اسپتال میں داخلے کے پہلے آٹھ دنوں کے دوران تقریباً 24 فیصد مریضوں میں اس وائرس کے آثار پائے گئے، جس کے بعد اس کی سرگرمی میں کمی آتی گئی۔

اینیلو وائرسز کی سرگرمی بھی بیماری کے ابتدائی مرحلے میں زیادہ دیکھی گئی اور تقریباً 20ویں روز تک نسبتاً برقرار رہی۔ اس کے برعکس سائٹو میگالو وائرس اور ہرپس سمپلیکس وائرس عموماً بعد کے مرحلے میں دوبارہ فعال ہوئے اور اسپتال میں داخلے کے تقریباً تین ہفتے بعد ان کی سرگرمی عروج پر پہنچ گئی۔ یہ وائرس زیادہ تر سانس کے نمونوں میں پائے گئے۔

تحقیق میں شدید کووڈ 19 اور ایپسٹین بار وائرس، سائٹو میگالو وائرس، ہرپس سمپلیکس وائرس اور اینیلو وائرسز کی دوبارہ سرگرمی کے درمیان تعلق بھی سامنے آیا۔ جن مریضوں میں وائرسز دوبارہ متحرک ہوئے، ان کے جسم میں سوزش پیدا کرنے والے کیمیائی مادوں کی سطح زیادہ تھی اور بعض مدافعتی خلیوں میں بھی تبدیلیاں دیکھی گئیں۔

اہم بات یہ ہے کہ وائرسز کی دوبارہ سرگرمی صرف ان مریضوں تک محدود نہیں تھی جو مدافعتی نظام کو دبانے والی ادویات استعمال کر رہے تھے۔ یہ عمل ایسے افراد میں بھی دیکھا گیا جن کا مدافعتی نظام بظاہر معمول کے مطابق کام کر رہا تھا۔

محققین نے اینیلو وائرسز پر خصوصی توجہ دی کیونکہ اسپتال سے فارغ ہونے کے بعد ان کی سرگرمی کا تعلق طویل مدتی کووڈ کا سامنا کرنے والے بعض مریضوں میں تھکن اور جسمانی کارکردگی میں کمی جیسی مشکلات سے پایا گیا۔ یہ تعلق عمر، مدافعتی نظام کو متاثر کرنے والی ادویات اور ابتدائی کووڈ کی شدت جیسے عوامل کو مدنظر رکھنے کے بعد بھی برقرار رہا۔

اینیلو وائرسز کو عمومی طور پر بے ضرر سمجھا جاتا ہے اور اندازے کے مطابق یہ دنیا کی تقریباً 80 سے 90 فیصد آبادی میں پائے جاتے ہیں۔

تاہم تحقیق میں یہ ثابت نہیں ہوا کہ کووڈ کے ابتدائی مرحلے کے دوران ایپسٹین بار وائرس کی سرگرمی ان افراد میں زیادہ تھی جنہیں بعد میں طویل مدتی کووڈ کا سامنا ہوا۔

محققین کے مطابق یہ نتائج مستقبل میں شدید کووڈ 19 یا طویل مدتی بیماری کے خطرے سے دوچار مریضوں کی شناخت اور علاج کے نئے طریقوں کی تیاری میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔ تاہم یہ جاننے کے لیے مزید طبی تحقیق اور آزمائشوں کی ضرورت ہوگی کہ وائرسز کی دوبارہ سرگرمی کا علاج کرنے سے مریضوں کے نتائج میں واقعی بہتری آتی ہے یا نہیں۔

محققین نے یہ بھی واضح کیا کہ موجودہ نتائج ہلکے کووڈ 19 کا شکار افراد، ویکسین لگوا چکے افراد یا کورونا وائرس کی حالیہ اقسام سے متاثرہ مریضوں پر لازماً لاگو نہیں کیے جا سکتے۔

سائنسدانوں کے مطابق مزید تحقیق کی ضرورت ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ وائرسز کا دوبارہ متحرک ہونا شدید کووڈ 19 اور طویل مدتی کووڈ میں براہ راست کردار ادا کرتا ہے یا یہ بیماری کے باعث پیدا ہونے والی سوزش اور جسمانی دباؤ کا نتیجہ ہے۔

Share This Article
Facebook Whatsapp Whatsapp Email Copy Link Print
Previous Article ایم ڈی کیٹ 2026 ملتوی، امتحان 16 اگست کے بجائے 20 ستمبر کو ہوگا ایم ڈی کیٹ 2026 ملتوی، امتحان 16 اگست کے بجائے 20 ستمبر کو ہوگا
Next Article کراچی میں کمسن بچے کے کیس پر شوبز شخصیات کا اظہارِ افسوس، انصاف کا مطالبہ کراچی میں کمسن بچے کے کیس پر شوبز شخصیات کا اظہارِ افسوس، انصاف کا مطالبہ
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اشتہار

FacebookLike
XFollow
InstagramFollow
YoutubeSubscribe
WhatsAppFollow
ThreadsFollow
امریکی سفیر کی بے دخلی: کینیڈین پٹیشن پر 1 لاکھ 70 ہزار سے زائد دستخط
امریکی سفیر کی بے دخلی: کینیڈین پٹیشن پر 1 لاکھ 70 ہزار سے زائد دستخط
تازہ ترین سیاست
اگست 16, 2026
بیلجیئم: پرانی بریوری کی کھدائی کے دوران ایک کروڑ ڈالر کا سونا برآمد
بیلجیئم: پرانی بریوری کی کھدائی کے دوران ایک کروڑ ڈالر کا سونا برآمد
بریکنگ نیوز
اگست 16, 2026
آزاد جموں و کشمیر الیکشن کمیشن: ایل اے 17 پر چوہدری یاسین راٹھور کی کامیابی برقرار
آزاد جموں و کشمیر الیکشن کمیشن: ایل اے 17 پر چوہدری یاسین راٹھور کی کامیابی برقرار
تازہ ترین سیاست
اگست 16, 2026
اینتھروپک کے ممکنہ آئی پی او کے لیے 200 ارب ڈالر کی آمدنی کا ہدف
اینتھروپک کے ممکنہ آئی پی او کے لیے 200 ارب ڈالر کی آمدنی کا ہدف
Technology تازہ ترین
اگست 16, 2026
کارتک آریان کو صدر دروپدی مرمو کی یومِ آزادی کی تقریب میں شرکت کی دعوت
کارتک آریان کو صدر دروپدی مرمو کی یومِ آزادی کی تقریب میں شرکت کی دعوت
انٹرٹینمنٹ تازہ ترین
اگست 16, 2026
پون ملہوترا کی یامی گوتم، کارتک آریان اور سنجے مشرا کی اداکاری کی تعریف
پون ملہوترا کی یامی گوتم، کارتک آریان اور سنجے مشرا کی اداکاری کی تعریف
انٹرٹینمنٹ تازہ ترین
اگست 16, 2026

You Might Also Like

Health

سندھ حکومت کا جعلی اسپتالوں کے خلاف بڑا فیصلہ

By Neha Ashraf
Health

بچپن میں چینی کا کم استعمال دل کی بیماریوں کے خطرات کم کرسکتا ہے: تحقیق

By Neha Ashraf
Health

سماعت کو نقصان پہنچانے والی 5 عام ادویات

By Neha Ashraf
جنوبی افریقہ میں موسمیاتی تبدیلی کے باعث ملیریا کے کیسز میں اضافہ
Health

جنوبی افریقہ میں موسمیاتی تبدیلی کے باعث ملیریا کے کیسز میں اضافہ

By Misbah Jogyat
MediaHyde
Facebook Twitter Youtube Rss Medium

About US

Your instant connection to breaking stories and live updates. Stay informed with our real-time coverage across politics, tech, entertainment, and more. Your reliable source for 24/7 news.

Top Categories
  • تازہ ترین
  • سیاست
  • انٹرٹینمنٹ
  • تعلیم
  • کھیل
  • مذہبی
  • میٹروپولیٹن
  • موسمیات و ماحولیات
Usefull Links
  • Contact Us
  • Disclaimer
  • Privacy Policy
  • Cookies Policy
  • Advertising Policy
  • Terms & Conditions

© 2025 Media Hyde Network. All Rights Reserved.

Welcome Back!

Sign in to your account

Username or Email Address
Password

Lost your password?