لندن کی ٹرانسپورٹ اتھارٹی نے شہر کے زیر زمین نیٹ ورک سے ہارر فلم ‘سمائل 2’ کے تشہیری پوسٹرز ہٹا دیے ہیں۔ ان پوسٹرز میں فلمی کردار کے ایک ایسے خوفناک اور وسیع مسکراہٹ والے چہرے کو دکھایا گیا تھا جسے مسافروں نے انتہائی پریشان کن قرار دیا تھا۔
منگل کی شب ٹرانسپورٹ فار لندن کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق، یہ فیصلہ مسافروں کی جانب سے مسلسل موصول ہونے والی شکایات کے بعد کیا گیا۔ ان پوسٹرز کو ٹیوب اسٹیشنوں اور ٹرین کی بوگیوں میں نمایاں طور پر آویزاں کیا گیا تھا، جہاں سے گزرنے والے افراد — بالخصوص بچے — اس منظر سے خوفزدہ ہو رہے تھے۔
سوشل میڈیا پر والدین کی جانب سے کئی ایسی شکایات سامنے آئیں جن میں کہا گیا کہ صبح سویرے اسٹیشن پر ان تصاویر کا سامنا کرنا بچوں کے لیے نفسیاتی دباؤ کا باعث بن رہا ہے۔ ایک مسافر نے مقامی میڈیا کو بتایا کہ "میں ہارر فلموں کا شوقین ہوں، لیکن صبح کے وقت ٹرین کے انتظار میں ایسی خوفناک تصاویر کا اچانک سامنے آنا کسی بھی لحاظ سے مناسب نہیں ہے۔”
کے اشتہاری اصولوں کے تحت ایسی کسی بھی تشہیر کی اجازت نہیں جو عوام میں "وسیع پیمانے پر بیزاری” یا "نقصان” کا باعث بنے۔ اگرچہ فلمی اسٹوڈیو پیراماؤنٹ پکچرز نے اس معاملے پر کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا، لیکن یہ پہلا موقع نہیں جب عوامی دباؤ کے باعث کسی اشتہاری مہم کو لندن کے ٹرانسپورٹ نظام سے ہٹایا گیا ہو۔
فلمی دنیا میں ‘سمائل’ سیریز اپنی جارحانہ مارکیٹنگ کے لیے جانی جاتی ہے۔ اس سے قبل 2022 میں فلم کے پہلے حصے کی تشہیر کے لیے براہ راست نشریات کے دوران اداکاروں کو پس منظر میں اسی طرح کی مسکراہٹ کے ساتھ کھڑا کیا گیا تھا، جس پر بھی کافی بحث ہوئی تھی۔
فی الحال لندن کے ٹرانسپورٹ حکام ان خوفناک پوسٹرز کی جگہ دیگر اشتہارات لگا رہے ہیں۔ اس کارروائی نے ایک بار پھر یہ ثابت کر دیا ہے کہ عوامی مقامات پر تشہیر کے لیے تخلیقی صلاحیتوں کے ساتھ ساتھ سماجی حساسیت کا خیال رکھنا کتنا ضروری ہے۔
