جگنوؤں کی آبادی میں تیزی سے کمی واقع ہو رہی ہے، اور وہ روشنی جو موسمِ گرما کی شاموں کا خاصہ ہوا کرتی تھی، اب دنیا بھر سے غائب ہوتی جا رہی ہے۔
سائنسی جریدے میں شائع ہونے والی ایک تازہ تحقیق نے ان خدشات کی تصدیق کر دی ہے جو ماہرین طویل عرصے سے ظاہر کر رہے تھے۔ مصنوعی روشنی اور قدرتی مسکن کا خاتمہ جگنوؤں کو معدومیت کی طرف دھکیل رہا ہے۔ محققین نے 40 ممالک میں 130 اقسام کے جگنوؤں کا مشاہدہ کیا اور پایا کہ رات کے وقت مصنوعی روشنی—جسے کہا جاتا ہے—ان کی اس مخصوص چمک کو متاثر کر رہی ہے جس کے ذریعے وہ اپنے ساتھی تلاش کرتے ہیں۔
یہ معاملہ محض ایک خوبصورت منظر کے کھو جانے تک محدود نہیں ہے۔ جگنو کسی بھی علاقے کے ماحولیاتی نظام کی صحت کا پیمانہ ہوتے ہیں۔ یہ کیڑے مٹی میں نمی کے تناسب، درجہ حرارت میں تبدیلی اور کیڑے مار ادویات کے خلاف انتہائی حساس ہیں۔ ان کا غائب ہونا اس بات کی علامت ہے کہ مقامی فوڈ چین میں بگاڑ پیدا ہو چکا ہے، جس کے اثرات مٹی کے معیار سے لے کر دیگر حشرات تک پھیل رہے ہیں۔
ماہرِ حیاتیات ڈاکٹر سارہ لیوس، جو دہائیوں سے ان کیڑوں پر تحقیق کر رہی ہیں، کہتی ہیں، "جگنوؤں کی یہ چمک ایک زبان ہے۔ جب ہم رات کو مصنوعی روشنیوں سے بھر دیتے ہیں، تو ہم گویا ان کی گفتگو میں شور مچا رہے ہوتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں وہ ایک دوسرے کو تلاش نہیں کر پاتے، افزائشِ نسل رک جاتی ہے، اور اگلی نسل کبھی وجود میں نہیں آتی۔”
اعداد و شمار تشویشناک ہیں۔ شمالی امریکہ میں ’بگ ڈائپر‘ کہلانے والے جگنوؤں کی آبادی ان مضافاتی علاقوں میں 30 فیصد تک کم ہو چکی ہے جہاں اسٹریٹ لائٹس کا دائرہ کار بڑھایا گیا ہے۔ جنوب مشرقی ایشیا میں مینگروو کے جنگلات کی کٹائی اور پام آئل کے باغات نے ان کالونیوں کو تباہ کر دیا ہے جو کبھی دریا کے کناروں کو روشن رکھا کرتی تھیں۔
ماحولیاتی تحفظ کے مقامی کارکن اب ‘ڈارک اسکائی’ اقدامات پر زور دے رہے ہیں۔ ان کا مطالبہ ہے کہ جون کے آخر سے جولائی تک، جب جگنوؤں کی افزائش کا عروج ہوتا ہے، بلدیات سٹریٹ لائٹس کو مدھم رکھیں۔ یہ محض ایک ماحولیاتی مطالبہ نہیں، بلکہ کروڑوں سال سے جاری ایک قدرتی عمل کو بچانے کی کوشش ہے۔
حل مشکل نہیں، مگر اس کے لیے ہمیں اپنی راتوں کو دیکھنے کا انداز بدلنا ہوگا۔ موشن سینسر والی لائٹس، زرد رنگ کے بلب، اور ایسی فکسچرز جو روشنی کو زمین کی طرف رکھیں، روشنی کے اس پھیلاؤ کو کم کر سکتی ہیں جو جگنوؤں کو الجھن میں ڈالتا ہے۔
اگر یہ اقدامات نہ کیے گئے تو وہ حیاتیاتی روشنی، جس نے صدیوں تک انسانوں کو مسحور کیا ہے، محض ایک قصہ پارینہ بن جائے گی۔ ہم صرف ایک کیڑا نہیں کھو رہے، بلکہ قدرت کی اس خاموش اور تال بند دھڑکن کو کھو رہے ہیں جو زندگی کا حصہ ہے۔
