میر رضا علی کی دوسری پوسٹ مارٹم رپورٹ نے ان کی موت کے گرد پھیلے شکوک و شبہات کو مزید گہرا کر دیا ہے۔ پولیس سرجن ڈاکٹر قرار عباسی نے منگل کو تصدیق کی کہ میڈیکل بورڈ نے جسم پر متعدد زخموں کی نشاندہی کی ہے، جو ابتدائی طبی معائنے میں سامنے نہیں آئے تھے۔
ان دو رپورٹس کے درمیان تضاد نے تفتیشی اداروں کو مجبور کر دیا ہے کہ وہ اس کیس کو محض ایک حادثاتی موت کے بجائے کسی ممکنہ جرم کے زاویے سے دیکھیں۔
مرحوم کے اہل خانہ نے پہلے دن سے ہی موقف اختیار کیا تھا کہ موت قدرتی نہیں تھی۔ تدفین کے دوران جسم پر موجود نشانات دیکھ کر انہوں نے پولیس پر ابتدائی تحقیقات میں غفلت برتنے کا الزام لگایا تھا۔ کئی ہفتوں کی قانونی جدوجہد کے بعد یہ دوسرا پوسٹ مارٹم ممکن ہوا، جس نے اب تحقیقاتی ٹیم کے لیے نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
تفتیش سے جڑے ایک افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا، "ہم اب صرف موت کی وجہ نہیں دیکھ رہے، بلکہ یہ بھی دیکھ رہے ہیں کہ یہ نشانات کیسے آئے اور پہلی بار انہیں کیوں نظر انداز کیا گیا۔”
میڈیکل بورڈ کی نئی تفصیلات کے مطابق، جسم پر پائے جانے والے کم از کم تین زخم ایسے ہیں جو رضا علی کی موت سے کچھ دیر قبل لگے۔ رپورٹ میں اسے براہِ راست قتل قرار تو نہیں دیا گیا، لیکن زخموں کو "غیر حادثاتی” قرار دینا خاندان کی قانونی ٹیم کے لیے ایک اہم پیش رفت ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ پہلی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں اتنی بڑی کوتاہی کیسے ہوئی؟ محکمہ پولیس کے اندرونی ذرائع کا کہنا ہے کہ پہلے معائنہ کرنے والے ڈاکٹر کے خلاف غفلت برتنے پر انکوائری شروع ہو سکتی ہے، تاہم تاحال کوئی باقاعدہ کارروائی نہیں کی گئی۔
کیس اب ایک ممکنہ مجرمانہ تحقیقات کی طرف بڑھ رہا ہے۔ بورڈ نے ٹشوز کے کیمیائی تجزیے کا حکم دیا ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ کیا رضا علی کو کوئی ایسی چیز دی گئی تھی جس سے وہ اپنے دفاع میں ناکام رہے۔
اہل خانہ کو رواں ہفتے کے آخر تک مکمل رپورٹ ملنے کی توقع ہے۔ یہ دستاویز ہی فیصلہ کرے گی کہ آیا ریاست اس کیس کو قتل کے مقدمے کے طور پر چلائے گی یا اسے محض ایک مشکوک موت کے خانے میں رکھا جائے گا۔
