انگلینڈ کے وسیع و عریض سبزہ زاروں نے اپنی قدرتی رنگت کھو دی ہے۔ شدید گرمی اور بارشوں کی طویل عدم دستیابی کے باعث ملک بھر کے دیہی علاقے اور پارک اب سرسبز کے بجائے زرد اور بھورے رنگ میں بدل چکے ہیں۔ سیٹلائٹ سے لی گئی تصاویر اور زمینی مناظر اس بات کی گواہی دے رہے ہیں کہ پانی کی قلت نے برطانیہ کے زرعی اور قدرتی حسن کو کس قدر متاثر کیا ہے۔
لندن کے مشہور رائل پارکس، جو عام طور پر اپنی ہریالی کے لیے جانے جاتے ہیں، اب جنوبی یورپ کے تپتے ہوئے میدانوں کا منظر پیش کر رہے ہیں۔ گھاس سوکھ کر تنکا بن چکی ہے اور زمین پر پڑنے والی دراڑیں اس بات کی نشاندہی کر رہی ہیں کہ مٹی کی نمی کا تناسب خطرناک حد تک گر چکا ہے۔
یہ صورتحال محض دیکھنے میں بری نہیں، بلکہ معاشی طور پر بھی تشویشناک ہے۔ برطانیہ کے آبی ذخائر کئی دہائیوں کی نچلی ترین سطح پر آ چکے ہیں، جس کے بعد واٹر یوٹیلیٹی کمپنیوں نے ہنگامی بنیادوں پر پانی کے استعمال پر پابندیاں عائد کرنا شروع کر دی ہیں۔ کسانوں کے لیے یہ خشک سالی کسی بڑے بحران سے کم نہیں؛ آلو، پیاز اور گندم جیسی فصلوں کی پیداوار میں نمایاں کمی متوقع ہے، جس کا براہِ راست اثر مارکیٹ میں اشیائے خوردونوش کی قیمتوں پر پڑے گا۔
ایک ماہرِ ماحولیات نے صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ "برطانیہ کا موسم اپنی روایتی پہچان کھو رہا ہے۔ زمین اتنی خشک ہو چکی ہے کہ اب وہ معمولی بارش کو بھی جذب کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتی۔”
برطانوی ماحولیاتی اداروں نے عوام کو پانی ضائع نہ کرنے کی سخت تنبیہ کی ہے۔ کئی کاؤنٹیوں میں پائپ کے ذریعے پانی کے استعمال پر پابندی لگا دی گئی ہے تاکہ بنیادی ضروریات کے لیے پانی محفوظ رکھا جا سکے۔ اگرچہ حکومت نے ابھی تک باضابطہ طور پر ‘قومی ہنگامی صورتحال’ کا اعلان نہیں کیا، لیکن زمین کی موجودہ حالت حکومتی اقدامات کو ناکافی ثابت کر رہی ہے۔
برطانیہ کا انفراسٹرکچر ایسے موسم کے لیے نہیں بنایا گیا تھا جہاں طویل عرصے تک بارش نہ ہو۔ پانی کی تقسیم کا پرانا نظام شدید دباؤ کا شکار ہے۔ جب تک ملک میں طویل اور تسلسل کے ساتھ بارش نہیں ہوتی، یہ جھلسی ہوئی زمین نہ صرف برطانوی موسم کا نیا چہرہ بنی رہے گی، بلکہ آنے والے وقتوں میں زرعی بحران کی ایک بڑی وجہ بھی ثابت ہوگی۔
