تہران — ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے منگل کے روز سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای سے ملاقات کی۔ یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب ایران کو اندرونی معاشی دباؤ اور خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کا سامنا ہے۔ سرکاری سطح پر اس ملاقات کو "موجودہ صورتحال پر تبادلہ خیال” کا نام دیا گیا ہے، لیکن تہران کے سیاسی حلقوں میں اس کی اہمیت بہت زیادہ سمجھی جا رہی ہے۔
مسعود پزشکیان، جو جولائی میں صدارت سنبھالنے کے بعد سے اصلاح پسندانہ سوچ کے حامل سمجھے جاتے ہیں، ایک مشکل سیاسی توازن قائم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کے سامنے سب سے بڑا چیلنج گرتی ہوئی معیشت اور عالمی پابندیوں کا خاتمہ ہے۔ تاہم، ایران کے اہم ترین سیکیورٹی اور انٹیلیجنس اداروں پر ان کا براہِ راست کنٹرول نہیں، جو براہِ راست سپریم لیڈر کو جوابدہ ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، پزشکیان اپنی حکومت کو عالمی تنہائی سے نکالنے کے لیے سفارتی محاذ پر لچک دکھانے کے خواہاں ہیں۔ لیکن ایسا کوئی بھی قدم اٹھانے کے لیے انہیں آیت اللہ خامنہ ای کی مکمل آشیرباد درکار ہے۔ اگر صدر کی جانب سے علاقائی کشیدگی کو کم کرنے یا کسی خفیہ سفارت کاری کے لیے کوششیں کی جا رہی ہیں، تو اس ملاقات کا مقصد اسی سیاسی حمایت کو یقینی بنانا تھا۔
ملاقات کا وقت خاصا اہم ہے۔ ایک جانب اسرائیل کے ساتھ جاری کشیدگی ہے تو دوسری جانب ملک کے اندر مہنگائی کی بلند شرح نے عوام میں بے چینی پیدا کر رکھی ہے۔ اسٹیبلشمنٹ اس وقت داخلی یکجہتی کا تاثر دینا چاہتی ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ بحران سے نمٹا جا سکے۔
ایک مقامی سیاسی مبصر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ "صدر اس وقت ایک نازک موڑ پر ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ سپریم لیڈر کی حمایت کے بغیر حکومت چلانا ناممکن ہے، لیکن موجودہ معاشی پالیسیوں کے ساتھ بھی زیادہ عرصہ نہیں نکالا جا سکتا۔ یہ ملاقات دراصل اسی تضاد کو ختم کرنے کی ایک کوشش ہے۔”
ابھی یہ واضح نہیں کہ اس بند کمرہ ملاقات میں کون سے ٹھوس فیصلے کیے گئے ہیں۔ کیا پزشکیان کو کوئی نئی حکمت عملی اپنانے کی اجازت ملی ہے یا انہیں موجودہ پالیسیوں پر ہی کاربند رہنے کا حکم دیا گیا ہے؟ اس کا جواب آنے والے دنوں میں ایران کے اگلے سفارتی اقدامات اور معاشی فیصلوں سے ملے گا۔
