لندن کے قریب واقع دریائے چیس کو تھمز واٹر نے ہمیشہ اپنے ماحولیاتی تحفظ کے منصوبوں کے "نمونے” کے طور پر پیش کیا، لیکن اب انوائرنمنٹ ایجنسی کی تازہ ترین درجہ بندی نے کمپنی کے دعووں کی قلعی کھول دی ہے۔ اس نایاب ‘چاک اسٹریم’ کو اب "ناقص” قرار دیا گیا ہے۔
بکنگھم شائر میں بہنے والا یہ دریا کبھی اپنی شفافیت اور نایاب آبی حیات کے لیے مشہور تھا، لیکن اب یہ سیوریج کے پانی اور فاسفورس کی آلودگی کی زد میں ہے۔ مقامی رہائشیوں اور ماحولیاتی کارکنوں کا کہنا ہے کہ کمپنی نے اسے اپنی تشہیر کے لیے تو استعمال کیا، مگر زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں۔
انوائرنمنٹ ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، دریا میں سیوریج کا اخراج اور پانی کے معیار کی مسلسل تنزلی اس کے ایکو سسٹم کو تباہ کر رہی ہے۔ برسوں سے مقامی ماہی گیر اور تحفظِ ماحول کے گروپس یہ شکایت کر رہے تھے کہ بھاری بارشوں کے دوران کمپنی خاموشی سے کچا سیوریج دریا میں چھوڑ دیتی ہے، جس سے دریا کا بستر کائی اور گندگی سے بھر چکا ہے۔
تھمز واٹر کی جانب سے اس صورتحال پر روایتی دفاع سامنے آیا ہے۔ کمپنی کے ترجمان نے شہری نکاسی آب کے نظام کی پیچیدگیوں اور پرانے انفراسٹرکچر کو اس ناکامی کا ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ طویل مدتی سرمایہ کاری کے ذریعے اس نقصان کا ازالہ کیا جائے گا، لیکن ناقدین اس وضاحت کو مسترد کرتے ہیں۔
اس وقت تھمز واٹر خود شدید مالی بحران میں گھری ہوئی ہے۔ کمپنی پر قومی تحویل میں لیے جانے یا ٹیکس دہندگان کے پیسوں سے بیل آؤٹ ملنے کا دباؤ ہے، ایسے میں ماحولیاتی ناکامیوں کا یہ انکشاف کمپنی کی ساکھ کے لیے ایک اور بڑا جھٹکا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ‘مثالی’ پروجیکٹ کی یہ ناکامی صرف ایک دریا کی کہانی نہیں، بلکہ یہ اس پورے نظام کی عکاسی ہے جو بنیادی سہولیات فراہم کرنے میں بھی ناکام ہو چکا ہے۔ دریائے چیس کی یہ موجودہ حالت ایک انتباہ ہے کہ اگر فوری اصلاحی اقدامات نہ کیے گئے تو اس نایاب آبی حیات کو پہنچنے والا نقصان ناقابلِ تلافی ہو سکتا ہے۔
